ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن فاطمة بنت قيس، قالت: قلت: يا رسول الله، زوجي طَلَّقَنِي ثلاثا، وأخاف أن يُقْتَحَمَ عَلَيَّ، قال: «فأمَرَها، فَتَحَوَّلَتْ».
ترجمہ
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ یا رسول اللہ! میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دے دی ہیں اور مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میرے ہاں کوئی (چور یا فاجر و فاسق شخص) نہ گھس آئے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا تو وہ وہاں سے (کسی اور جگہ ) منتقل ہو گئیں۔
تشریح
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کو بتایا کہ اگر وہ دورانِ عدت اسی گھر میں رہیں جس میں ان کے شوہر نے انہیں طلاق دی ہے تو انہیں اندیشہ ہے کہ کہیں کوئی فاجر یا چور وغیرہ زبردستی ان کے ہاں نہ گھس آئے۔ اس پر نبی ﷺ نےانہیں حکم دیا کہ وہ وہاں سے کسی اور جگہ منتقل ہو جائیں حالانکہ وہ ہنوز طلاق کی عدت میں تھیں کیونکہ اس کی ضرورت تھی۔
تشریح: العربية
ذكرت فاطمة بنت قيس رضي الله عنها للنبي صلى الله عليه وسلم أنها تخشى على نفسها إن بقيت في المنزل الذي طلقها فيه زوجها وقت العدة، فربما دخل عليها بالقوة فاجر أو سارق ونحوهما، فأمرها النبي صلى الله عليه وسلم أن تنتقل منه إلى غيره، مع أنها ما زالت في عدة الطلاق، للحاجة.
- أنَّه لا يجوز للمرأة أنْ تنفرد بمسكن ليس معها فيه أحد، إذا كانت تخاف على نفسها من أهل الفساد؛ فيجب على ولي أمرها أنْ يأمرها بالتحول منه.
- جواز قبول قول المرأة في كون المنزل مأموناً أو غير مأمون، وأنها لا تُكلف إقامة البينة على ذلك.
- أنه يبنغي للإنسان أن يجتنب أسباب الشر وأن يتقيه؛ لأن رفع الشيء بعد وقوعه أصعب من توقيه قبل وقوعه.
- أنَّ المطلقة البائن، لها أنْ تتحول من بيت زوجها الذي أبانها وهي تسكنه، وإنْ كانت لا تزال في عدة الطَّلاق، لاسيَّما مع الخوف على نفسها.
- أن المعتدة إذا تحولت لعذر فإنه لا يلزم أن تتحول إلى مكان قريب من مكانها الأول, بل لها أن تتحول إلى مكان بعيد.