حدیث

ہم پر ہمارے نبی ﷺ کی سنت کو خلط ملط نہ کرو، ام ولد کی عدت جب اس کے مالک کی وفات ہو جائےتو چار ماہ دس دن ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مالک نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عمرو بن العاص قال: "لا تُلَبِّسُوا علينا سُنَّةَ نبيِّنا عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ، إذا تُوُفِّيَ عنها سَيِّدُهَا أربعة أشهر وعشر".

ترجمہ

عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: ”ہم پر ہمارے نبی ﷺ کی سنت کو خلط ملط نہ کرو، ام ولد کی عدت، جب اس کے مالک کی وفات ہو جائےتو چار ماہ دس دن ہے“۔

تشریح

اس اثر میں جلیل القدر صحابی عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں پر نکیر فرمائی ہے جو بغیر دلیل وحجت کے اُس ام ولد کی عدت کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں جس کے مالک کی وفات ہو گئی ہو، آپ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس بارے میں سنت یہی ہے کہ وہ آزاد بیوی کی عدت کی طرح اسی کے برابر چار ماہ دس دن ٹھہرے گی، یہ اثر اگرچہ اپنے مفہوم میں صراحت سے دلالت کرتی ہے مگر اکثر علماء نے دوسرے دلائل کی بنا پر اس بات کو ترجیح دی ہے کہ متوفیٰ عنہا ام ولد کی عدت بقیہ لونڈیوں کی طرح ایک حیض ہے اور یہی جمہور کا مذہب ہے۔

تشریح: العربية

في هذا الأثر أنكر الصحابي الجليل عمرو بن العاص رضي الله عنه على من يتكلم في مسألة عدة أم الولد التي توفي سيدها من دون حجة وبرهان، وبين أن السنة في ذلك أن تمكث أربعة أشهر وعشرة أيام؛ كعدة الزوجة الحرة، سواء بسواء، والأثر وإن كان دل صراحة على هذا المعنى، ورجح كثير من أهل العلم أن عدة أم الولد التي توفي سيدها حيضة مثل بقية الإماء؛ لأدلة أخرى، وهو مذهب الجمهور.

  • إذا مات سيد أم الولد، فحديث الباب يدل على أنَّها تعتد وتحد أربعة أشهر وعشرة أيام؛ كالزوجة الحرة.
  • أنَّ أمَّ الولد من حيث الخدمة والاستمتاع كالأمَة، ومن حيث نقل الملك بها كالحُرَّة، فيجوز وطؤها، وخدمتها، وتأجيرها، ولا يجوز بيعها، ولا هبتها، ولا وقفها، ونحو ذلك ممَّا ينقل الملك، أو يسبب نقل الملك؛ كالرهن.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید