حدیث

غلام کی آزاد عورت کو طلاق دو طلاقیں ہیں اور اس عورت کی عدت تین حیض ہے جب کہ آزاد کی لونڈی کو طلاق دو طلاقیں ہیں اور لونڈی کی عدت دو حیض ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارقطنی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام عبد الرزّاق نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن ابن عمر أنه كان يقول: «طَلَاقُ العبد الحُرَّةَ تطليقتان وَعِدَّتُهَا ثلاثة قُروء، وطلاق الحر الأَمَةَ تطليقتان وعِدَّتُهَا عِدَّةُ الأمَة حَيْضَتَانِ».

ترجمہ

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ غلام کی آزاد عورت کو طلاق دو طلاقیں ہیں اور اس عورت کی عدت تین حیض ہے جب کہ آزاد کی لونڈی کو طلاق دو طلاقیں ہیں اور لونڈی کی عدت دو حیض ہے۔

تشریح

اس اثر میں ابن عمر رضی اللہ عنہما فرما رہے ہیں کہ مملوک غلام کی بیوی چاہے آزاد عورت ہو یا لونڈی ہو اس کی دو طلاقیں ہیں اس سے زائد اس کے پاس اختیار نہیں اور اگر آزاد عورت ہے تو اس کی عدت تین حیض ہے۔ اسی طرح آزاد مرد کے پاس دو طلاقوں کا اختیار ہے اگر اس کی بیوی لونڈی ہے اس کے علاوہ اس کے پاس اختیار نہیں اور اس (لونڈی) کی عدت دو حیض ہے۔

تشریح: العربية

في هذا الأثر يبين ابن عمر رضي الله عنهما أن العبد المملوك له طلقتان اتجاه زوجته الحرة أو الأمة لا يملك غيرهما، ثم إنَّ الحرة تعتد منه ثلاث حيض، وكذلك الحر له طلقتان اتجاه زوجته المملوكة لا يملك غيرهما، وهي تعتد منه حيضتين.

  • أنَّ نهاية طلاق الأمة طلقتان.
  • أنَّ عدَّة الأَمَة حيضتان.
  • أنَّ الطلاق يختلف باعتبار الحرية والرِّق.
  • أنَّ العدّة تختلف باعتبار الحرية والرّق.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید