ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن خَيْثَمَةَ، قال: كنا جلوسًا مع عبد الله بن عمرو، إذ جاءه قَهْرَمَانٌ له فَدَخَلَ، فقال: أَعْطَيْتَ الرَّقِيقَ قُوتَهُمْ؟ قال: لا، قال: فَانْطَلِقْ فَأَعْطِهِمْ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يَحْبِسَ عَمَّنْ يَمْلِكُ قُوتَهُ».
ترجمہ
خیثمہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کا خزانچی اندر آیا، تو پوچھا کہ کیا تم نے غلاموں کو ان کى خوراکی دے دیا ہے؟ اس نے کہا کہ نہیں، تو فرمایا : جاو اور ان کو خوراکی دے دو۔ پھر کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم- نے فرمایا ہے : "آدمی کے گناہ گار ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ اپنے ماتحت لوگوں کى خوراکی روک لے"۔
تشریح
اس حديث میں عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ایک انسان پر جن ماتحت لوگوں کا نان و نفقہ واجب ہو، ان کے بارے میں حساس رہنے کی کس قدر ضرورت ہے۔ جب ان کو معلوم ہوا کہ ان کے خزانچی نے غلاموں کو ان کا نفقہ نہیں دیا ہے، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث سنا دی، جس میں بتایا گیا ہے کہ بخل کی بنا پر ماتحت لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں لاپرواہی سے کام لینا اور ان کے نفقے کو روکنا گناہ میں واقع ہونے کے بڑے اسباب میں سے ایک ہے۔
تشریح: العربية
في هذا الحديث يبين عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما عظم مسؤولية الإنسان عمن تلزمه نفقتهم، وذلك عندما علم أنَّ الخازن لم يعطِ المماليك نفقاتهم، فذكر حديث النبي صلى الله عليه وسلم الذي فيه أنّ تضييع الإنسان وإهماله لمن تحت يده ببخله وإمساكه النفقة عنه من أكبر أسباب الإثم.
- وجوب النفقة على من استرعاه الله شيئًا ذا روح وكبد رطبة، من زوجة، وأولاد، وأقارب، وأرقَّاء، وحيوان.
- تحريم منع أقوات هذه الرعية عنهم في غذائهم وطعامهم؛ فإنَّ الله -تعالى- قد ابتلاه واختبره بجعلهم تحت يده، وأجرى رزقهم على يديه.
- أنه يجب على الإنسان أن يكون نبيهاً فيما حُمل من الواجبات.
- عناية الشرع بذوي الحقوق، وأن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان مدافعاً عنهم ومطالباً لهم، ولهذا توعد من أضاع حقوقهم.