حدیث

میں نے کہا اے اللہ کے رسول! میرے حُسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تیری ماں، پھر تیری ماں، پھر تیری ماں، پھر تیرا باپ، پھر درجہ بہ درجہ جو تمہارے قریبی لوگ ہیں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

حَسَنْاسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن بهز بن حكيم، عن أبيه، عن جده، قال: قلتُ يا رسول الله: مَن أَبَرّ؟ قال: "أُمَّك، ثم أُمَّك، ثم أُمَّك، ثم أَباك، ثم الأقربَ، فالأقربَ".

ترجمہ

بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ میں نے کہا اے اللہ کے رسول! میرے حُسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تیری ماں، پھر تیری ماں، پھر تیری ماں، پھر تیرا باپ، پھر درجہ بہ درجہ جو تمہارے قریبی لوگ ہیں۔

تشریح

اس حدیث میں رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے ساتھ احسان کرنے پر ابھارا گیا ہے، اور ان سب میں سب سے زیادہ حق دار ماں کو بتایا گیا ہے پھر اس کے بعد اس کا باپ ہے پھر اس کےبعد جو زیادہ قریبی ہو پھر اس کے بعد جو زیادہ قریبی ہو، لیکن سب سے زیادہ حق دار ماں ہے اس کی وجہ اس کی اپنی اولاد کی تئیں کثرت سے پریشانی اور تکلیف اٹھانا نیز خدمت وشفقت ہے، اور اس لیے بھی کہ حمل ور ضاعت اور تربیت کی فضیلت بھی اسی کے ساتھ خاص ہے اور حمل میں تھکاوٹ ہے پھر اس کے بعد وضع حمل کی مشقت ہے، اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا﴾ ”اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور برداشت کر کے اسے جنا“۔ (سورہ احقاف: 15) اور جب ماں کا درجہ باپ سے مقدم ہے تو اس کے علاوہ دوسرے لوگوں پر بدرجہ اولی مقدم ہو گا، اور ماں باپ کے ساتھ حُسنِ سلوک میں سے یہ بھی ہے کہ ان پر خرچ کیا جائے۔

تشریح: العربية

الحديث فيه الحثٌّ على برِّ الأقارب والإحسان إليهم، وأن الأم أحقهم بذلك، ثم بعدها الأب، ثم الأقرب فالأقرب، وإنما كانت الأم أحقهم لكثرة تعبها وشفقتها وخدمتها؛ لأن لها فضيلة الحمل والرضاع والتربية، وفي الحمل التعب، ثم مشقة الوضع، قال تعالى : (حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا)، وإذا كانت الأم مقدمة على الأب فتقديمها على غيره من باب أولى، ومن بر الأم والأب الإنفاق عليهما.

  • بيان فضل الصحابة وحرصهم على تعلم أبواب الخير والبر.
  • أن الناس يختلفون بالأولوية, فكل ما كان أقرب إلى الإنسان فهو أحق ببره.
  • الحديث فيه تقديم الأم، ثم الأب، ثم الأقرب، فالأقرب على حسب درجاتهم في الإرث والقرب.
  • حق الأم آكد من حق الأب بالبر, لأن النبي -صلى الله عليه وسلم- أمر بالبر بها ثلاث مرات.
  • أن النفقة من البر.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید