حدیث

تو اس کی پرورش کی زیادہ حق دار ہے جب تک کہ تو کسی سے نکاح نہ کرے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

حَسَنْاسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما أن امرأة قالت: يا رسول الله، إن ابني هذا كان بطني له وِعاء، وثَدْيِي له سِقاء، وحِجْري له حِواء، وإن أباه طَلَّقَني، وأراد أنْ يَنْتَزِعَه مِني، فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم : «أنتِ أحقُّ به ما لم تَنكحي».

ترجمہ

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی ﷺ سے کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! میرا یہ بیٹا ہے میرا پیٹ اس کے لیے برتن تھا، اور میری چھاتی اس کے لیے مشکیزہ، اور میری گود اس کے لیے جھولا ہے، اور اس کے باپ نے مجھے طلاق دے دی ہے، اور وہ چاہتا ہے کہ اسے مجھ سے چھین لے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اس کی پرورش کی زیادہ حق دار ہے جب تک کہ تو کسی سے نکاح نہ کرے“۔

تشریح

اس حدیث میں ہے کہ ایک عورت نے نبی ﷺ سے شکایت کی جب اس کے شوہر نے اسے طلاق دے دی، اور اس نے ارادہ کیا کہ اس کے لڑکے کو اس سے چھین لے، اس عورت نے کچھ ایسے اوصاف بیان کیے تاکہ وہ بچہ اس کے پاس رہ سکے، چنانچہ اس نےکہا کہ میرا یہ بیٹا ہے میرا پیٹ اس کے لئے برتن تھا جب وہ پیٹ کا بچہ تھا، اور اس کی چھاتی اس کی پیدائش کے بعد اس کے لیے مشکیزہ، اوراس کی گود جس جگہ اسے سمیٹ کر رکھتی تھی اس کے لیے جھولا تھا، چنانچہ نبیﷺ نے اس کی ان باتوں کا اقرار کیا، اور اس سے کہا ’’ تو اس کی پرورش کی زیادہ حق دار ہے جب تک کہ تو کسی سے نکاح نہ کرے،،۔اور جب تو کسی سے نکاح کرلے گی تو تمہارا حق اس پر نہیں رہے گا، بلکہ اس کا باپ اس کا زیادہ حق دار ہوگا،،۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عورت جب شادی کر لے گی اور اس کا بیٹا اس کے ساتھ رہے گا تو ایسی صورت میں اس نئے شوہر کے زیر پرورش ہو جائے گا، چنانچہ اس پر احسان کرے گا، جس کی وجہ سے یہ بچہ اس سے اپنے باپ کے مقابلے زیادہ وابستہ ہو جائے گا، اور بسا اوقات دوسری خرابیاں بھی جنم لے سکتی ہیں۔

تشریح: العربية

في هذا الحديث أن امرأةً اشتكت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم زوجَها حين طلقها وأراد أن يأخذ ابنها منها، وذكرت هذه المرأة من الأوصاف ما يقتضي تقديمها عليه في بقائه عندها، فبطنها وعاؤه حينما كان جنينًا، وثديها سقاؤه بعد أن وُلِد، وحِجْرها هو المكان اللين الذي يحويه، وقد أقرَّ النبي صلى الله عليه وسلم المرأة على ما وصفته من نفسها، وقال لها أنتِ أحق به في الحضانة وهو لك ما لم تنكحي زوجًا آخر، فإذا نكحت فلا تكوني أحق به منه، بل يكون أبوه هو أحق، ووجه ذلك أن المرأة إذا تزوجت وبقي ابنها معها صار تحت حجر هذا الزوج الجديد فيمنُّ عليه أو يتعلق به الطفل أكثر مما يتعلق بأبيه، وربما وقعت مفاسد أخرى.

  • جواز السجع في الكلام.
  • أن حضانة الأم لا تسقط بالطلاق.
  • أنَّ الأم أحق بحضانة الطفل من الأب، ما دام في طور الحضانة، ما لم تتزوج.
  • تقديمُ الأم على الأب في الحضانة -ما دامت متفرغة- في غاية الحكمة والمصلحة، ذلك أنَّ معرفة الأم وخبرتها وصبرها على الأطفال شيء لا يلحقه أحد من أقارب الطفل الآخرين، كالأب.
  • مِن لُطْف الله -تعالى- بخلقه عنايته بالمستضعفين منهم، ممن ليس لهم حول ولا طول، فهو يوصي بهم، ويُعنى بهم العناية التي تعوضهم الأمر الذي لم يصلوا إليه من العناية بأنفسهم، وهم في حالة الضعف.
  • أنَّ الأم إذا تزوَّجت، ودخل بها الزوج الثاني، سقطت حضانتها، لأنَّها أصبحت مشغولة عن الولد بمعاشرة زوجها
  • جواز ذكر الخصم ما يبرر خصومته ويرجح جانبه.
  • الإشارة إلى أن أهم مقصود في الحضانة هي رعاية الطفل.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید