حدیث

بوجہِ اسلام ماں باپ کے مابین جدائی ہونے کے موقع پر بچے کو اختیار دینے کے بارے میں رافع بن سنان رضی اللہ عنہ کی حدیث۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن رافع بن سنان أنه أسلَمَ وأَبَتْ امرأتُه أن تُسْلِم، فأتت النبي صلى الله عليه وسلم ، فقالت: ابنتي وهي فَطِيمٌ أو شَبَهُهُ، وقال رافع: ابنتي، قال له النبي صلى الله عليه وسلم : «اقعد ناحية»، وقال لها: «اقعدي ناحية»، قال: «وأقعد الصَبِيَّةَ بينهما»، ثم قال «ادعواها»، فمَالت الصبية إلى أمها، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : «اللهم اهدها»، فمالت الصبية إلى أَبيها، فأخذها.

ترجمہ

رافع بن سنان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے تو اسلام قبول کر لیا مگر ان کی بیوی نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ( جس کی وجہ سے ان دونوں کے درمیان علیحدگی ہو گئی )۔ ان کی بیوی نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی "میری بیٹی نے ابھی ابھی دودھ چھوڑا ہے یا چھوڑنے کے قریب ہے" ۔ جب کہ رافع رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ "بیٹی میری ہے" ۔ نبی کریم ﷺ نے رافع سے کہا " ایک طرف بیٹھ جاؤ " اور اس عورت سے کہا کہ "تم دوسری طرف بیٹھ جاؤ"۔ رافع کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے بچی کو ان دونوں کے درمیان بٹھا دیا اور پھر ان سے فرمایا "تم دونوں اسے بلاؤ" ۔ ( انہوں نے بلایا ) تو بچی اپنی ماں کی طرف جھک گئی۔ نبی ﷺ نے دعا فرمائی کہ "اے اﷲ! اس بچی کو ہدایت دے" ۔ اس پر بچی اپنے باپ کی طرف جھک گئی اور انہوں نے اسے لے لیا۔

تشریح

حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ نبی ﷺ کے پاس والدین کے مابین بچے کی حضانہ (پرورش سے متعلق نزاع) کا مسئلہ آیا جن میں سے ایک یعنی باپ مسلمان تھا ور دوسرا یعنی ماں کافر تھی۔ اپنی بیٹی کے بارے میں نبی ﷺ کے پاس ان دونوں کے مابین نزاع پیدا ہو گیا۔ نبی ﷺ نے بچی کو ماں باپ کے مابین اختیار دیا تو اس نے ماں کو اختیار کرنا چاہا جو کہ کافر تھی۔ اس پر نبی ﷺ نے دعا فرمائی کہ "اے اللہ! اس بچی کو ہدایت دے"۔ یعنی صحیح کی طرف اس کی راہنمائی فرما۔اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ کی دعا کو قبول فرما لیا اور اس بچی نے مسلمان باپ کو چن لیا۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بچے کا کافر کی نگہداشت اور پرورش میں رہنا اللہ تعالیٰ کی رہنمائی کے برخلاف ہے۔ کیونکہ پرورش میں دیے جانے کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ بچے کی تربیت ہو اور ہر قسم کے ضرر کو اس سے دور رکھا جائے۔ جب کہ سب سے بڑی تربیت اس کے دین کی حفاظت ہے اور اس کا سب سے بڑا دفاع یہ ہے کہ اس سے کفر کو دور رکھا جائے۔ جب بچہ کافر کی پرورش میں ہوگا تو وہ اسے اس کے دین سے پھیر دے گا اور اسے کفر کی تعلیم و تربیت دے کر اسلام سے نکال دے گا جو کہ سب سے بڑا ضرر ہے ۔ پرورش تو ہوتی ہی بچے کی حفاظت کے لیے ہے چنانچہ اس کی کوئی بھی ایسی صورت جائز نہیں جس میں بچے کی ہلاکت ہو یا اس کے دین کا ضیا ع ہو۔

تشریح: العربية

جاء في هذا الحديث أن خصومةً متعلقة بالحضانة وقعت عند النبي صلى الله عليه وسلم بين أبوين، أحدهما مسلم وهو الأب، والثاني كافر وهي الأم، حيث اختصما عند النبي صلى الله عليه وسلم في شأن ابنتيهما، والنبي صلى الله عليه وسلم خيَّر الصبية بين الأبوين فاختارت الأم وهي كافرة، فالنبي صلى الله عليه وسلم قال: اللهم اهدها، أي دلها على الصواب، فاستجاب الله دعوة نبيه صلى الله عليه وسلم فاختارت الأب المسلم. وهذا يفيد أنَّ بقاء الطفل تحت رعاية وحضانة الكافر خلاف هدي الله تعالى . لأنَّ الغرض من الحضانة هي تربيته، ودفع الضرر عنه، وأنَّ أعظم تربيةٍ هي المحافظة على دينه، وأهم دفاع عنه هو إبعاد الكفر عنه. وإذا كان في حضانة الكافر، فإنَّه يفتنه عن دينه، ويخرجه عن الإسلام بتعليمه الكفر، وتربيته عليه، وهذا أعظم الضرر، والحضانة إنما تثبت لحفظ الولد، فلا تشرع على وجه يكون فيه هلاكه، وهلاك دينه.

  • أن الولد الصغير إذا كان بين المسلم والكافر فإن المسلم أحق به.
  • أن الابن لا يُقرُّ عند أبيه إذا كان كافرا, ولو اختاره, ولا عند أمه إذا كانت كافرة ولو اختارها، قال ابن قيم الجوزية: (إن الحديث قد يحتج به على صحة مذهب من اشترط الإسلام، فإن الصبية لما مالت إلى أمها دعا النبي -صلى الله عليه وسلم- لها بالهداية، فمالت إلى أبيها، وهذا يدل على أن كونها مع الكافر خلاف هدى الله الذي أراده من عباده، ولو استقر جعلها مع أمها، لكان فيه حجة، بل أبطله الله -سبحانه- بدعوة رسوله.ومن العجب أنهم يقولون: لا حضانة للفاسق، فأي فسق أكبر من الكفر؟ وأين الضرر المتوقع من الفاسق بنشوء الطفل على طريقته إلى الضرر المتوقع من الكافر).
  • أن أهم شيء في الحضانة أن يهتدي المحضون.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید