حدیث

جب تم میں سے کسی کا خادم اس کے سامنے کھانا حاضر کرے، تو اگر اسے اپنے ساتھ نہیں بیٹھاتا تو اسے ایک دو لقمہ ضرور دے دے۔ کیونکہ اس نے اسے تیار کرنے کی ذمے داری نبھائی ہے

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إذا أتى أحدَكم خادمُه بطعامِه، فإنْ لم يُجلِسْه معه، فلْيُناوِلْهُ لُقمةً أو لُقْمَتَيْنِ أو أُكْلَة أو أُكْلَتَين، فإنه وَلِيَ عِلاجَه».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "جب تم میں سے کسی کا خادم اس کے سامنے کھانا حاضر کرے، تو اگر اسے اپنے ساتھ نہیں بیٹھاتا تو اسے ایک دو لقمہ ضرور دے دے۔ کیونکہ اس نے اسے تیار کرنے کی ذمے داری نبھائی ہے"۔

تشریح

اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ خادم یا غلام جب اپنے آقا کے لیے کھانا تیار کرے، تو مروت اور حسن سلوک کا تقاضا یہ ہے کہ آقا اسے اس کھانے کا کچھ حصہ کھانے کو دے، اسے بالکل محروم نہ رکھے۔ یہ مروت، شرافت اور حسن اخلاق کی بات نہیں ہوگی کہ جس نے اسے محنت سے تیار کرکے حاضر کیا، وہ اسے چکھنے سے رہ جائے۔ اس لیے اس کا دل رکھنے اور خواہش پوری کرنے کی خاطر کـچھ ضرور دینا چاہیے۔

تشریح: العربية

في هذا الحديث أن الخادم أو المملوك إذا أصلح طعاماً لسيده، فمن المروءة وحسن المعاملة أن يُطعمَه سيده من هذا الطعام ولا يحرمُه منه وقد تعب فيه، وقد أصلحه وأحضره، فلا يليق بالمروءة والكرم وحُسن المعاملة أن هذا المملوك لا يذوق من الطعام، بل يعطيه منه ما يُطيِّبُ نفسَه ويردُّ تطلُّعه.

  • الحث على مكارم الأخلاق, والأمر بالتواضع وترك التكبر على العبد والخادم.
  • الأفضل لصاحب البيت أن يؤاكل خدمه، ومماليكه، وضيوفه الصغار، ولا يترفَّع، ولا يتكبَّر عن مؤاكلتهم ومؤانستهم، وأن يكون ذلك باحتشام.
  • الأفضل والأكمل أن يكون طعام المخدوم والخادم واحدًا.
  • جواز استخدام الغير.
  • أن الخادم مؤتمن على طعام السيد.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید