حدیث

کسی بھی ایسے مسلمان کا خون بہاناجائز نہیں جو یہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، سوائے تین صورتوں میں سے کسی ایک صورت میں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "لا يَحِلّ دمُ امرئ مسلم، يشهد أن لا إله إلا الله، وأن محمدًا رسول الله، إلا بإحدى ثلاث: رجل زَنَى بَعْدَ إِحْصَان، فإنه يُرْجَم، ورجل خرج مُحاربًا لله ورسوله، فإنه يُقَتُل، أو يُصلَّبُ، أو يُنفى من الأرض، أو يَقتلَ نفسًا، فيُقتلُ بها".

ترجمہ

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی بھی ایسے مسلمان کا خون بہانا جائز نہیں جو یہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی دوسرا معبودِ برحق نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، سوائے تین صورتوں میں سے کسی ایک صورت میں: پہلی صورت یہ ہے کہ وہ شادی شدہ ہو اور زنا کا ارتکاب کربیٹھے۔ ایسے شخص کو سنگسار کیا جائے گا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے بغاوت کرے۔ (اس جرم کی پاداش میں) اسے قتل کیا جائے گایا سولی پر چڑھایا جائے گا یا اسے جلاوطن کردیا جائے گا۔ تیسری صورت یہ ہے کہ وہ کسی کو قتل کردے تو اسے بھی (قصاصاً) قتل کر دیا جائے گا۔

تشریح

حدیث میں اُن مسلمانوں کے خون کی حرمت کا اشارہ ہے جو اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور جن سے نواقضِ اسلام میں سے کسی بھی ایسی بات کا ظہور نہیں ہوتا جو شہادتین کے برخلاف ہو۔ کیونکہ شارع حکیم (اللہ تعالی) نے جان کے تحفظ کو بہت اہمیت دی ہے اور اپنی شریعت کو اس کا پاسبان اور محافظ بنایا ہے اور اُس نے شرک باللہ کے بعد کسی بھی ایسی جان کے قتل کو سب سے بڑا گناہ قرار دیا ہے جسے قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہو ۔ اس حدیث میں شارع نے ہر اس مسلمان کے قتل کو حرام قرار دیا جو شہادتین کا اقرار کرتا ہو سوائے اس کے کہ وہ تین میں سے کسی ایک با ت کا مرتکب ہو: اول: وہ زنا کرے جب کہ اللہ تعالیٰ نے اسے شادی کی نعمت سے نوازا ہو اور صحیح نکاح کے ذریعے اس کی شرمگاہ کو عفت بخشی ہو۔ دوم: زیادتی اور ظلم کا ارتکاب کرتے ہوئے وہ کسی معصوم جان پر دست دراز ہو کر اسے قتل کر دے۔ ایسے شخص کے حق میں عدل و مساوات کا تقاضا یہی ہے کہ اس کے ساتھ بھی وہی کچھ ہو جو اس نے کیا تاکہ حق قائم ہو اور ظالم لوگوں کو سرکشی سے باز رکھا جا سکے۔ سوم: جو اللہ اور اس کے رسول سے بغاوت کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف لڑنے کے لیے نکل پڑے بایں طور کہ ان پر ڈاکہ زنی کرے، انہیں دہشت زدہ کرے، ان کا مال ان سے چھینے اور ان میں فساد برپا کرے۔اس طرح کے شخص کو یا تو قتل کر دیا جائے گا یا سولی پرچڑھا دیا جائے گا یا پھر جلا وطن کر دیا جائے گا تا کہ لوگ اس کے شر اور ظلم و زیادتی سے نجات پا سکیں۔ یہ وہ تین لوگ ہیں جنہیں قتل کر دیا جائے گا کیونکہ ان کے قتل کرنے میں دین و جان اور عزت و ناموس کی سلامتی ہے۔

تشریح: العربية

الحديث فيه الدلالة على حرمة دماء المسلمين الذين يشهدون أن لا إله إلا الله وأن محمدًا رسول الله، ولم يظهر منهم ما يخالف الشهادتين من نواقض الإسلام؛ لأن الشارع الحكيم حرص على حفظ النفوس وأمْنِها، فجعل لها من شرعه حماية ووقاية، ثم إنه جعل أعظم الذنوب -بعد الإشراك بالله- قتل النفس التي حرم الله تعالى قتلها. وحرم -هنا- قتل المسلم الذي أقر بالشهادتين إلا أن يرتكب واحدة من الخصال الثلاث: الأولى: أن يزني وقد مَنّ الله عليه بالإحصان، وأعفّ فرجه بالنكاح الصحيح. والثانية: أن يعمد إلى نفس معصومة، فيقتلها عدوانًا وظلمًا. فالعدل والمساواة لمثل هذا، أن يلقى مثل ما صنع إرجاعًا للحق إلى نصابه وردعًا للنفوس الباغية عن العدوان. والثالثة: الذي خرج على المسلمين محاربًا لله ورسوله، بقطع الطريق عليهم وإخافتهم وسلبهم وإيقاع الفساد فيهم، فهذا يقتل أو يُصلب أو يُنفى من الأرض، ليستريح الناس من شره وبغيه. فهؤلاء الثلاثة يقتلون؛ لأن في قتلهم سلامة الأديان والأبدان والأعراض.

  • حرص الشارع الحكيم الرحيم على بقاء النفوس وأمنها، فجعل لها من شرعه حماية وصيانةً، فجعل أعظم الذنوب بعد الشرك قتل النفس التي حرَّم الله قتلها، وفي ذلك حَفِظَهَا من الاعتداء عليها.
  • لم يبح المشرِّع قتل النفس المسلمة إلاَّ بإحدى هذه الخصال الثلاث.
  • تحريم فعل هذه الخصال الثلاثة أو بعضها، وأنَّ من فعل واحدة منها، استحق عقوبة القتل.
  • أن عقوبة الزاني المحصن الرجم بالحجارة حتى الموت.
  • أنَّ مَن قتل نفسًا معصومةً عمدًا عدوانًا، فهو مستحق للقصاص بشروطه.
  • قوله: "زنى بعد إحصان" مفهومه: أنَّ البكر ليس حده الرجم، فقد جاء أن حده الجلد، كما في الآية الكريمة.
  • أن المحارب لله ورسوله -صلى الله عليه وسلم- يُنكل بهذا النكال, القتل, والصلب, والنفي من الأرض, وبقي عقوبة رابعة لم تذكر في الحديث ولكنها ذكرت في الآية: {أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلَافٍ}.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید