حدیث

جو شخص کسی اندھا دھند لڑائی جھگڑے میں مارا جائے ( اور قاتل دیکھا نہ گیا ہو) کہ ان کی آپس میں سنگباری ہوئی ہو یا ڈنڈے بازی ہوئی ہو تو اس کی دیّت قتلِ خطا والی ہو گی ۔ اور جو عمداً جان بوجھ کر قتل کیا گیا ہو تو اس میں قاتل کی جان سے قصاص ہے اور جو کوئی اس ( قصاص لینے) میں آڑے آئے تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «من قُتِلَ في عِمِّيّا، أو رِمِّيَاً يكون بينهم بحَجَرٍ، أو بِسَوْطٍ، فَعَقْلُهُ عَقْلُ خطإ، ومن قَتَلَ عَمْدَاً فَقَوَدُ يَدَيْهِ، فمن حَالَ بينه وبينه فعليه لعنة الله، والملائكة والناس أجمعين».

ترجمہ

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ”جو شخص کسی اندھا دھند لڑائی جھگڑے میں مارا جائے (اور قاتل دیکھا نہ گیا ہو) کہ ان کی آپس میں سنگباری ہوئی ہو یا ڈنڈے بازی ہوئی ہو تو اس کی دیّت قتلِ خطا والی ہو گی۔ اور جو عمداً جان بوجھ کر قتل کیا گیا ہو تو اس میں قصاص جان کے بدلے جان کی ہوگی اور جو کوئی اس (قصاص لینے) میں آڑے آئے تو اس پر اللہ کی ، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔

تشریح

اس حدیث سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اگر کوئی باہمی دھکم پیل، یا کسی غیر مبینہ حالت کی وجہ سے، یا کسی اور خفیہ سبب جیسے ہجوم وغیرہ کی وجہ سے مارا جائے اور اس کے قاتل کی نشاندہی نہ ہو سکے تو اس کو قتلِ خطا پر منحصر کیا جائے گا اور اس کی قتلِ خطا والی دیت مسلمانوں کے بیت المال سے ادا کی جائے گی۔ اور جس کو عمداً (قاتل کی نشاندہی کے ساتھ) قتل کیا گیا ہو تو اس کے ہاتھوں کو سزا دی جائے گی۔ یعنی اس کو جان سے مار کر قصاص لیا جائے گا یا اس کے قتل کا فیصلہ اس کی جان کو قصاص بنایا جائے گا۔ ہاتھ کی تعبیر جان سے مجازی طور پر کی گئی ہے۔ یا پھر اس کا یہ معنی بھی ہے کہ اس کے ہاتھ نے جو کام کیا ہے اس کی سزا ملے گی اور وہ قتل ہے بایں معنی قود (سزا) کی اضافت ید (ہاتھ) کی طرف مجازی طور پر کی گئی ہے۔ اور جو شخص قاتل اور سزا کے درمیان حائل ہو جب کہ مقتول کے ورثاء اس سے قصاص کے خواہش مند ہوں تو مانو اس نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی لعنت کے لیے پیش کر دیا ہے۔ اس کے اس قبیح جرم کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی نہ توبہ قبول کرتا ہےاور نہ ہی اس کا کوئی فرض اور نفل قبول کرتا ہے۔

تشریح: العربية

أفاد الحديث أن كل شخص قُتل بين قوم كانوا يترامون فيما بينهم أو في حالة غير مبينة و سبب غامض كالزحام ثم جهل قاتله فإنه يجعل قتله قتل خطأ وتكون ديته دية خطأ على بيت مال المسلمين، ومن قَتَل -بالبناء للفاعل- عمدا فقود يده أي فعليه قود نفسه، أو فحكم قتله قود نفسه، وعبر باليد عن النفس مجازا، أو المعنى: فعليه قود عمل يده الذي هو القتل، فأضيف القود إلى اليد مجازا، فمن حال بين القاتل بين القود بمنع أولياء المقتول عن قتله، بعد طلبهم ذلك، فقد عرض نفسه للعنة الله فلا يقبل الله منه توبة ولا فرضاً ولا نفلا لعظيم جرمه.

  • قتيل العِمِّيّا؛ وهو الذي يقتل في زحام، فيجهل قاتله؛ كزحام الطواف، والسعي، ورمي الجمار، فهذا ديته من بيت مال المسلمين.
  • أما القتل برمي حجر، أو سوط، أو عصا مما لا يقتل غالبا، فهذا شبيه بالخطأ من حيث عدم وجوب القصاص، وشبيه بالعمد من حيث تغليظ الدية؛ فدية شبه العمد كدية العمد قدرا.
  • أما قتل العمد العدوان فإنَّ فيه القود، وهو القصاص، وقد أشار إليه -صلى الله عليه وسلم- بقوله: "ومن قتل عمدا فهو قود".
  • أن القصاص أو الدية إذا وجب، فحالت يد ظالمة عن تنفيذه، فعلى تلك اليد الحائلة بين الدية أو القود، وبين أولياء القتيل لعنة الله؛ لأنها منعت أصحاب الحق من حقهم.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید