حدیث

جس نے کسی مومن کوجان بوجھ کرقتل کیا اسے مقتول کے وارثوں کے حوالے کیا جائے گا، اگروہ چاہیں تو اسے قتل کردیں اورچاہیں تو اس سے دیت لیں، دیت کی مقدارتیس حقہ، تیس جذعہ اور چالیس خلفہ ہے اور جس چیز پر وارث مصالحت کرلیں وہ ان کے لیے ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

حَسَنْاسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «مَنْ قَتَل مؤمِنا متعمِّدًا دُفِعَ إلى أولياء المَقْتول، فإنْ شاءوا قَتَلوا، وإنْ شاءوا أَخَذوا الدِّيَة، وهي ثلاثون حِقَّة، وثلاثون جَذَعَة، وأَرْبعون خَلِفَة، وما صالحوا عليه فهو لهم، وذلك لتَشْدِيد العَقْل».

ترجمہ

عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی مومن کوجان بوجھ کرقتل کیا اسے مقتول کے وارثوں کے حوالے کیا جائے گا، اگروہ چاہیں تو اسے قتل کردیں اور چاہیں تو اس سے دیت لیں، دیت کی مقدار تیس حقہ، تیس جذعہ اور چالیس خلفہ ہے اور جس چیز پر وارث مصالحت کرلیں وہ ان کے لیے ہے اور یہ دیت کے سلسلہ میں سختی کی وجہ سے ہے“۔

تشریح

یہ حدیث ان احکام کو بیان کر رہی ہے جو کسی مومن کو عمداً قتل کرنے کی وجہ سے لاگو ہوتے ہیں۔اس میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ مقتول کے ورثاء کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ قصاص کا مطالبہ کریں تو حاکم اس کو قتل کرے گا اور یہ اس کے عمل کی جنس کے حساب سے اس کی سزا ہو گی۔ یہاں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اگر وہ حدیث میں مذکور دیت پر راضی ہو جائیں (تو اس کے مطابق فیصلہ ہو گا)اور وہ دیت تیس حقہ،تیس جذعہ اور تیس حاملہ اونٹیاں ہوں گی کہ جن کے پیٹوں میں بچے موجود ہوں۔ اسی طرح حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ اگر مقتول کے ورثاء اس سے زائد کسی چیز کے ساتھ مصالحت پر راضی ہوں تو لے سکتے ہیں۔ اس حدیث میں جو دیت بیان کی گئی ہے (قتل عمد کی دیت) یہ انتہائی سخت دیت ہے کیونکہ اس میں قتل کی نیت اور ارادہ پایا جاتا ہے۔

تشریح: العربية

هذا الحديث يبين الأحكام المترتبة على قتل المؤمن عمدًا، وقد وضح أن أولياء المقتول من ورثته بالخيار بين أن يطالبوا بالقصاص فيقتله الحاكم جزاء من جنس عمله، وبين أن يرضوا بالدية المذكورة في الحديث، وهي ثلاثون حقة وثلاثون جذعة وأربعون ناقةً حاملًا في بطونها أولادها، كما جاء في الحديث أن لأولياء المقتول أن يأخذوا ما زاد على ذلك مما تصالحوا عليه، ثم بيَّن أن هذه الدية -وهي دية القتل العمد- دية مغلظة مشددة لما فيها من العمد، والقصد إلى القتل.

  • جواز الصلح في الدماء على أكثر من الدية أو أقل.
  • أنَّ الأصل في الدية هي الإبل، وأنَّ الأجناس الباقية هي أبدال؛ ذلك أنَّ الإبل هي التي يدخلها التغليظ والتخفيف.
  • حرمة قتل النفس المعصومة وتشديد الشريعة في ذلك.
  • أن أولياء المقتول مخيرون بين أن يطالبوا بالقصاص من القاتل المتعمد, وبين أن يأخذوا الدية.
  • أنَّ دية القتل العمد دية مغلظة, وهي: ثلاثون حِقة، وثلاثون جذعة، وأربعون خلِفَة في بطونها أولادها.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید