ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :"إن أعتى الناس على الله ثلاثة: من قَتَلَ فِي حَرَمِ اللهِ، أَوْ قَتَلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ، أَوْ قَتَلَ بِذُحُولِ الجاهلية".
ترجمہ
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "اللہ کے نزدیک سب سے سرکش وہ ہے, جواللہ کے حرم کے اندر قتل کرے, یا جو اپنے قاتل کے سوا کسی اور کو قتل کرے یا جو زمانۂ جاہلیت کی عداوت وانتقام کی بنا پر قتل کرے"۔
تشریح
عبد اللہ بن عمرو بتا رہے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہے کہ قتل کے معاملے میں اللہ کے نزدیک سب سے سرکش لوگ تین ہیں: پہلا وہ جس نے اللہ کے پر امن حرم یعنی مکہ کے اندر کسی کو ناحق قتل کر دیا۔ کیونکہ کسی کو ناحق قتل کرنا شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے اور قتل کی واردات جب حرم کے اندر ہو، تو اس کی حرمت اور گناہ اور بڑھ جاتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے : {ومن يُرِدْ فيه بإلحاد بظلم نُذِقْهُ من عذاب أليم } [الحج، آیت نمبر:25] یعنی جو بھی وہاں ظلم کے ساتھ الحاد کا ارادہ کرے گا، ہم اسے درد ناک عذاب چکھائیں گے۔ ساتھ ہی، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث میں ہے : "بے شک تمھارا خون، تمھاری عزت و آبرو اور تمھارے اموال تمھارے لیے اسی طرح قابل احترام ہیں، جس طرح تمھارے اس شہر میں تمھارا یہ مہینہ قابل احترام ہے"۔ [اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ حدیث نمبر : 1218] دوسرا وہ آدمی، جو اپنے قاتل کے علاوہ کسی اور کو قتل کر دے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے : {ولا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أخرى} [الأنعام: 164] یعنی کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اس کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ آدمی اپنے قاتل کو علاوہ کسی اور کا قتل کر دے یا اس کے ساتھ کسی اور کو بھی مار دے۔ دراصل ان تین وجوہات کی بنا پر کسی کا خون بہا دینا دور جاہلیت کی عادت تھی، جس سے اللہ نے منع کیا ہے۔ تیسرا وہ آدمی، جو دور جاہلیت کی عداوتوں اور انتقاموں کی وجہ سے، جن کو اسلام نے کالعدم قرار دے دیا ہے، قتل کرے۔ لیکن علما نے دو لوگوں کو اس سے مستثنی قرار دیا ہے۔ ایک وہ شخص جو اپنے بچاو میں کسی کا قتل کر دے، جب قتل کے علاوہ کوئی صورت نہ بچی ہو اور دوسرا وہ شخص جو حرم کے اندر کوئی جرم کرے، جس سے اس کا قتل مباح ہو جائے، جیسے قتل عمد وغیرہ۔ ایسا اس لیے، تاکہ حرم جرائم کا ذریعہ نہ بن جائے۔
تشریح: العربية
يخبر عبد الله بن عمرو أن النبي صلى الله عليه وسلم أخبر بأن أشد الناس تمردًا وتجبرًا عند الله بالنسبة للقتل ثلاثة: الأول: من قتل نفسًا محرمةً في حرم الله الآمن، والمقصود به مكة؛ لأن قتل النفس التي حرم الله أعظم الذنوب بعد الشرك، وهي في حرم الله أشد حرمة، وأعظم إثما؛ لقوله تعالى : {ومن يُرِدْ فيه بإلحاد بظلم نُذِقْهُ من عذاب أليم } [الحج]. وقد صح عنه صلى الله عليه وسلم قوله: "إن دماءكم، وأعراضكم، وأموالكم عليكم حرام، كحرمة شهركم هذا، في بلدكم هذا" [رواه مسلم (1218)]. الثاني: من قتل غير قاتله، قال تعالى: {ولا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أخرى} [الأنعام: 164]. وذلك بأن يقتل شخصًا آخر غير قاتله، أو يقتل معه غيره. وكان الإسراف في القتل بهذه الأمور الثلاثة عادة جاهلية نهى الله تعالى عنها. الثالثة: القتل من أجل عداوات الجاهلية وثاراتها التي قضى عليها الإسلام وأبطلها. لكن استثنى العلماء من قتل دفاعًا عن نفسه؛ إن لم يندفع بغير القتل، وقتل من جنى في الحرم جناية تحل قتله كالقاتل عمدًا، حتى لا يكون الحرم ذريعة للجرائم.
- شدة تحريم هذه الجرائم الثلاث، ووصف صاحبها بأنَّه أشد الناس تجبرًا وعتوًا.
- لا يجوز المطالبة بالدماء التي في الجاهلية، لأنها ملغاة ومهدورة بمجيء الإسلام.
- وجوب تعظيم الحرم.
- تفاضل الذنوب في الشدة.
- تحريم الانتساب إلى الجاهلية، والتشبه بأفعالها من عادات أو عبادات.
- تحريم أخذ الثأر بقتل غير القاتل.