حدیث

جس نے طبیب ہونے کا دعوی کیا حالانکہ وہ طب کے بارے میں کچھ نہ جانتا تھا تو وہ (نقصان کی صورت میں) تاوان بھرے گا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

حَسَنْاسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «مَنْ تَطَبَّبَ، ولا يُعْلَمُ مِنْهُ طِبٌّ، فهو ضامِنٌ»

ترجمہ

عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا: ”جس نے طبیب ہونے کا دعوی کیا حالانکہ وہ طب کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تو وہ (نقصان کی صورت میں) تاوان بھرے گا“۔

تشریح

جو شخص علمِ طب رکھنے کادعوی کرے حالانکہ وہ اس سے بالکل بھی واقف نہ ہو اور نہ ہی اسے اچھی طرح سرانجام دے سکتا ہو اور یوں وہ لوگوں کو دھوکا دیتے ہوئے ان کا علاج کرے اور اپنے علاج کی وجہ سے وہ کسی کی جان لے لے یا پھر کسی عضو وغیرہ کو تلف کر دے تو وہ تاوان بھرے گا کیونکہ اس نے زیادتی کی بایں طور کہ لوگوں کو دھوکا دیا اور اپنے آپ کو ایسے کام پر آمادہ جسے وہ جانتا ہی نہیں تھا۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا کہ علاج کرنے والا جب زیادتی کا مرتکب ہو اور مریض کی جان لے لے تو اس صورت میں وہ تاوان بھرے گا۔ یہی حکم اس شخص کا بھی ہے جو کسی بھی ایسے علم و عمل میں منہمک ہوتا ہے جس کی وہ کچھ بھی شُدْ بُدْ نہیں رکھتا۔ یہ شخص بھی زیادتی کرنے والا ہے اور اگر اس کے اس فعل سے کچھ تلف ہو گیا تو وہ دیت کا ضامن ہو گا تاہم اس پر قصاص نہیں آئے گا کیونکہ اس نے مریض کی اجازت کے بغیر ایسا نہیں کیا۔

تشریح: العربية

من ادَّعى علم الطب، وليس بعالم فيه، ولا يحسنه، فغرَّ النَّاس، وعالجهم، فأتلف بعلاجه نفسًا، فما دونها من الأعضاء، فهو ضامن؛ لأنَّه متعدٍ، حيث غرَّ النَّاس، وأعدَّ نفسه لما لا يعرفه. و لا يعلم خلاف في أنَّ المعالج إذا تعدى، فتلف المريض كان ضامنًا، وكذا المتعاطي علمًا أو عملًا لا يعرفه، فهو متعدٍّ، فإن تولد من فعله التلف ضمن الدية، وسقط عنه القود؛ لأنَّه لم يستبد بذلك دون إذن المريض.

  • تضمين المتطبب الجاهل.
  • عمل المتطبب الجاهل محرَّم لأن دعواه الطب دعوى كاذبة، وتغرير بالناس، وعبث بأبدانهم .
  • ما أخذه المتطبب الجاهل من أجرة: فهي محرَّمة؛ لأنَّها من أكل أموال النَّاس بالباطل، ونتيجة خداع، وثمرة تمويه.
  • يقاس على ادِّعاء الطب بالجهل كل عمل يدعيه الإنسان، أو صنعة ينسب إليها، وهو لا يحسن ذلك، ثم يفسد على الناس أموالهم.
  • أعظم من هذا كله ادعاء العلم الشرعي، وتعاطي الفتوى مع الجهل، فإذا كانت الأبدان تضمن مع الجهل، فأولى الإضرار بالدين.
  • إذا كان الطبيب حاذقًا وفعل المأذون فيه ولم يتعد أو يفرط فلا ضمان عليه؛ وإن حصل زيادة في المرض مثلا، وهذه قاعدة في كل فعل مأذون فيه.
  • فيه مبدأ العدل، وصيانة أرواح الناس وأبدانهم من عبث العابثين.
  • الطب مهنة جائزة بل ومهمة، بل عده بعض الفقهاء من فروض الكفايات.
  • كمال الدين الإسلامي بإباحة الطب، وتشجيع الطبيب الحاذق بأنه لاضمان عليه إذا لم يفرط ولم يتعد.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید