حدیث

محمد ﷺ کی بیویوں (ازواجِ مطہرات) کے پاس بہت سی عورتیں اپنے خاوندوں کی شکایت لے کر آئی ہیں۔ یہ لوگ تم میں سے بہتر لوگ نہیں ہیں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن إياس بن عبد الله بن أبي ذباب رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لا تضربوا إِمَاءَ الله» فجاء عمر رضي الله عنه إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ذَئِرْنَ النساءُ على أزواجهن، فَرَخَّصَ في ضربهن، فَأَطَافَ بآل رسول الله صلى الله عليه وسلم نساءٌ كثيرٌ يَشْكُونَ أزواجهن، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لقد أَطَافَ بآل بيت محمد نساءٌ كثيرٌ يَشْكُونَ أزواجهن، ليس أولئك بِخِيَارِكُمْ».

ترجمہ

ایاس بن عبد اللہ بن ابی ذباب - رضی اللہ عنہ - روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ: رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی باندیوں (یعنی اپنی بیویوں) کو نہ مارو۔ پھر اس حکم کے کچھ دنوں بعد عمر- رضی اللہ عنہ - رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ عورتیں اپنے خاوندوں پر دلیر ہو گئیں ہیں۔ آپ ﷺ نے عورتوں کو مارنے کی اجازت عطا فرما دی۔ اس کے بعد بہت سی عورتیں رسول کریم ﷺ کی ازواج مطہرات کے پاس جمع ہوئیں اور اپنے خاوندوں کی شکایت کیں کہ وہ ان کو مارتے ہیں۔ رسول کریم ﷺ کو جب یہ معلوم ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ محمد ﷺ کی بیویوں کے پاس بہت سی عورتیں اپنے خاوندوں کی شکایت لے کر آئی ہیں۔ ایسے لوگ تم میں سے بہتر لوگ نہیں ہیں۔

تشریح

نبی ﷺ نے بیویوں کو مارنے سے منع فرمایا۔ اس پر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: عورتیں اپنے شوہروں پر دلیر ہو گئی ہیں اور نافرمانی کرنے لگی ہیں۔ اس پر نبی ﷺ نے انہیں ہلکا سا مارنے کی رخصت دے دی بشرطیکہ کہ کوئی وجہ پائی جائے جیسے نافرمانی وغیرہ۔ اگلے دن عورتیں نبی ﷺ کی بیویوں کے پاس آ گئیں اورانہوں نے اپنے شوہروں کی شکایت کی کہ وہ سختی کے ساتھ مارتے ہیں اور رخصت کو غلط انداز میں استعمال کرتے ہیں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ مرد جو اپنی عورتوں کو تیز مارتے ہیں وہ تم میں سے بہتر لوگ نہیں ہیں۔ اس کی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے مارنے کو نافرمانی کے علاج کے مراحل میں سے آخری مرحلہ قرار دیا ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ﴾ ”اور جن عورتوں کی نافرمانی اور بددماغی کا تمہیں خوف ہو انہیں نصیحت کرو اور انہیں الگ بستروں پر چھوڑ دو اور انہیں مار کی سزا دو“۔ ان تینوں طریقوں کا ذکر ترتیب بیان کرنے کے لیے ہے نہ کہ اس لیے کہ سب کو ایک ہی وقت میں بروئے کار لایا جائے۔ چنانچہ مرد پہلے سمجھائے بجھائے اور نصیحت کرے اگر اس سے کچھ فائدہ ہو تو الحمد للہ اور اگر یہ سود مند نہ ہو تو پھر اسے اس کے بستر میں تنہا چھوڑ دے (اُس کے ساتھ نہ سوئے)، اگر یہ بات بھی کار گر نہ ہو تو پھر اس کی تادیب کے لیے اسے (دھیرے سے) مارے نہ کہ انتقام لینے کے لیے۔

تشریح: العربية

نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن ضرب الزوجات، فجاء عمر بن الخطاب رضي الله عنه وقال للنبي صلى الله عليه وسلم : اجترأ النساء على أزواجهن ونشزن، فرخص النبي صلى الله عليه وسلم بضربهن ضربًا غير مبرح إذا وجد السبب لذلك كالنشوز ونحوه، فاجتمع نساء عند زوجات النبي صلى الله عليه وسلم في اليوم التالي يشكون من ضرب أزواجهن لهن ضربًا مبرحًا، ومن سوء استعمال هذه الرخصة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : هؤلاء الرجال الذين يضربون نساءهم ضربًا مبرحًا ليسوا بخياركم. ومن أسباب ذلك أن الله عز وجل جعل الضرب آخر مراحل علاج النشوز فقال: (واللاتي تخافون نشوزهن فعظوهن واهجروهن في المضاجع واضربوهن) وهذه الثلاثة على الترتيب وليست للجمع في وقت واحد، فيبدأ بالنصح والوعظ والتذكير فإن أفاد فالحمد لله، وإن لم ينفع يهجرها في المرقد، فإن لم يفد يضربها ضرب تأديب لا ضرب انتقام.

  • جواز مراجعة العالم في فتواه؛ لمعرفة عواقبها ومآلها.
  • جواز الشكوى للأمير أو العالم إذا لحق ضرر بالشاكي.
  • الضرب وسيلة لتأديب المرأة الناشز وهو مباح في الجملة.
  • الرجل راع في بيته، فيجب أن يربيهم ويهذبهم بالحكمة والموعظة الحسنة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید