حدیث

جب کوئی عورت اپنے خاوند کو ایذا دیتی ہے تو (جنت کی) حوروں میں سے اس مرد کی بیوی (حور) کہتی ہے: اللہ تجھے تباہ کرے! اس شخص کو تکلیف نہ دے، یہ تو تیرے پاس مہمان ہے جو عنقریب تجھے چھوڑ کر ہمارے پاس آنے والا ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن معاذ بن جبل رضي الله عنه مرفوعاً: «لا تؤذي امرأةٌ زوجَها في الدنيا إلا قالت زوجته من الحُورِ العِينِ لا تُؤْذِيهِ قاتلك الله! فإنما هو عندك دَخِيلٌ يُوشِكُ أن يفارقَكِ إلينا».

ترجمہ

معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب کوئی عورت اپنے خاوند کو تکلیف پہنچاتی ہے تو (جنت کی) حوروں میں سے اس مرد کی بیوی (حور) کہتی ہے: اللہ تجھے تباہ کرے! اس شخص کو تکلیف نہ دے، یہ تو تیرے پاس مہمان ہے جو عنقریب تجھے چھوڑ کر ہمارے پاس آنے والا ہے“۔

تشریح

نبیﷺ فرما رہے ہیں کہ جنت کی حور اس بیوی سے کہتی ہے جو دنیا میں اپنے شوہر کو تکلیف دیتی ہے کہ یہ شوہر تو دنیا میں مہمان ہے اور عنقریب وہ آخرت کی طرف چل دے گا اور جنت میں داخل ہو جائے گا اور آخرت کی عورتوں (حوروں) کے حصے میں آجائے گا۔

تشریح: العربية

يخبر النبي صلى الله عليه وسلم عن قول الحور العين عن الزوجة التي تؤذي زوجها في الدنيا، فإنما هذا الزوج ضيف ونزيل في الدنيا يوشك أن يرحل منها إلى الآخرة، ويدخل الجنة فيكون من نصيب نساء الآخرة.

  • تحذير المرأة من إيذاء زوجها.
  • أعد الله للمؤمنين في الجنة أزواجا مطهرة لا يتحملن أن يؤذى المؤمن ولو من زوجته في الدنيا.
  • الجنة ونعيمها موجود الآن.
  • الدنيا دار ابتلاء واختبار والآخرة دار جزاء وبقاء.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید