ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ عِكْرِمَةَ: أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَرَّقَ قَوْمًا، فَبَلَغَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ: لَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أُحَرِّقْهُمْ لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لاَ تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ»، وَلَقَتَلْتُهُمْ كَمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ».
ترجمہ
عکرمہ سے روایت ہے: علی رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو جلا دیا۔ جب عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو اس کی اطلاع ملی، تو فرمایا: اگر میں ہوتا، تو ان کو نہ جلاتا، کیونکہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "تم لوگ اللہ کے عذاب کے ذریعے عذاب مت دو"، بلکہ میں ان کو قتل کر دیتا، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "جو اپنا دین بدل لے، اسے قتل کر دو"۔
تشریح
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے اجتہاد کرتے ہوئے اسلام سے مرتد ہونے والے کچھ زندیقوں کو آگ میں جلا دیا، جب اس کی اطلاع عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو ملی تو انہوں نے ان کے قتل کی تائید کی، لیکن آگ میں جلانے کا انکار کیا۔ اور فرمایا: اگر میں ان کی جگہ ہوتا، تو انہیں آگ سے نہ جلاتا؛ کیونکہ آپ ﷺ نے یہ بات واضح فرمایا کہ آگ کی سزا تو صرف اللہ ہی دیتا ہے، جو آگ کا رب ہے۔ بلکہ انہیں قتل کر دینا ہی کافی ہے، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: جو اسلام سے مرتد ہو جائے اور اپنا دین بدل کر کوئی دوسرا دین اختیار کر لے، اسے قتل کر دو۔
فوائد
- اہل علم کا اجماع ہے کہ دین اسلام سے مرتد ہونے والے کا قتل اپنی شرطوں کے ساتھ واجب ہے، یہ کام صرف امام اور حاکم ہی کرے گا۔
- آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’جو اپنے دین سے پھر جائے اسے قتل کردو۔‘‘ یعنی جو اسلام سے مرتد ہو جائے، یہ حکم مردوں اور عورتوں سب کے لیے عام ہے۔
- مرتد کو اس کے ارتداد پر برقرار نہیں رکھا جائے گا، بلکہ اسے اسلام کی دعوت دی جائے گی، اور اگر وہ قبول نہ کرے تو اسے قتل کردیا جائے گا۔
- اس حدیث میں آگ سے عذاب دینے کی ممانعت آئی ہے اور یہ کہ حدود آگ کے ذریعے قائم نہیں کی جا سکتیں۔
- ابن عباس رضی اللہ عنہما کی فضیلت، اور احادیثِ رسول ﷺ کے بارے میں ان کے علم و فقہ کی وسعت۔
- مخالف پر انکار کرنے کے آداب۔
تشریح: العربية
اجتهد علي بن أبي طالب رضي الله عنه فحرّق بالنار قومًا من الزنادقة المرتدين عن الإسلام، فبلغ عبدَ الله بن عباس رضي الله عنهما ذلك، فأيَّده على قتلهم؛ لكن أنكر تحريقَهم بالنار. وقال: لو كنت مكانه لما أحرقتهم بالنار؛ لأنه صلى الله عليه وسلم بين أنه لا يُعذِّب بالنار إلا الله رب النار، ولكن يكفي قتلهم حيث قال صلى الله عليه وسلم: من ارتد عن الإسلام وبدل دينه لدين آخر فاقتلوه.
- وجوب قتل المرتد عن دين الإسلام بإجماع أهل العلم، وذلك بشروطه، ولا يفعل ذلك إلا الإمام والحاكم.
- قوله: "من بدَّل دينه، فاقتلوه" أي: من ارتد عن الإسلام: حكمٌ عامٌّ للرجال والنساء.
- المرتد لا يُقرُّ على ردته بل يُدعى إلى الإسلام، فإن لم يجب قُتِلَ.
- في هذا الحديث النهي عن التعذيب بالنار، وأن الحدود لا تستوفى بالنار.
- فضل ابن عباس رضي الله عنهما، وسعة علمه وفقهه بأحاديث النبي صلى الله عليه وسلم.
- فيه أدب الإنكار على المخالف.