حدیث

اللہ کی لعنت ہو چور پر، جو ایک انڈا چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے، ایک رسی چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لعن الله السارق، يسرق البَيْضَةَ فَتُقْطَعُ يده، ويسرِقُ الحَبْلَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : "اللہ کی لعنت ہو چور پر، جو ایک انڈا چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے، ایک رسی چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے"۔

تشریح

اس حدیث میں چوری کرنے والے پر لعنت یعنی اسے اللہ کی رحمت سے دھتکارے جانے اور دور کیے جانے کی بات ہے؛ کیونکہ وہ انڈے اور رسی جیسی معمولی چیزیں چراتا ہے۔ لیکن چوں کہ یہ معمولی چیزیں چرانے والے کو جب چوری کی لت لگ جائے گی، تو وہ اس سے بڑی چیزیں چرانے لگے گا، اس لیے ان معمولی چیزوں کی چوری بھی چرانے والے کا ہاتھ کاٹے جانے اور اس کے لعنت کی بد دعا کے حق دار ہونے یا اس کے اوپر لعنت پڑنے کی اطلاع دینے کا سبب بن جاتی ہے۔

تشریح: العربية

أفاد الحديث أن اللعن -أي الطرد والإبعاد عن رحمة الله- لمن يسرق؛ لأنه يسرق الشيء الحقير مثل البيضة والحبل، إلا أن سارق هذه الأشياء اليسيرة لما تعوَّد على أخذها جره ذلك إلى سرقة ما هو أعظم منها، فكان ذلك سببًا في قطع يده، واستحقاق الدعاء عليه باللعن أو الإخبار بوقوع اللعن عليه.

  • جواز الدعاء باللعن على من سرق، وعلى أصحاب الكبائر عمومًا، ولكن الدعاء بلعن المعين لا يجوز, ولو تعلق به هذا الوصف.
  • وجوب قطع يد السارق، وأن ذلك لا ينافي الرحمة به.
  • أن المصلحة العامة تقدم على المصلحة الخاصة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید