ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن خالد بن عُرْفُطَةَ رضي الله عنه قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم : "يا خالد إنها ستكون بَعْدِي أَحْدَاثٌ وفِتَنٌ واختلاف، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أن تكون عبد الله المقتول لا القاتل فَافْعَلْ".
ترجمہ
خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے خالد! عنقریب میرے بعد بہت سارے نئے واقعات، فتنے اور اختلاف جنم لیں گے۔ اگر تم میں اللہ کے نزدیک قاتل کے بجائے مقتول بندہ بننے کی استطاعت ہو تو ایسا ہی کرنا“۔
تشریح
نبی کریم ﷺ نے خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہ کو بتایا ہے کہ عنقریب تمہیں بہت سارے اختلافات، جنگوں اور فتنوں کا سامنا ہو گا ۔ مثلاً امت کے پاس ان کی قیادت کے لیے کوئی حقیقی حکمران نہیں ہوگا، یا پھر ہر ریاست کا الگ الگ راجہ ہو گا، ان کے درمیان فتنے اور جنگیں رونما ہوں گی تو ایسے وقت میں انہیں فتنے سے الگ رہنے، اپنے آپ کو ان کا حصہ بننے سے بچائے رکھنا اور پیچھے بیٹھے رہنے اور ان کا ساتھی نہ بننے کا حکم دیا۔ اگر ظلماً ان کو قتل کر دیا جائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی مسلم کو قتل کریں۔ بہتر یہی ہے کہ اپنے گھر میں رہیں یا پھر فتنے سے بچنے کے لیے علاقہ تبدیل کرلیں۔ لیکن دلیل اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ انسان کو فتنے کے وقت میں اپنا، اپنے اہل وعیال اورمال ودولت کا دفاع کرنا چاہیے، فتنے کے وقت میں دفاع کرنا چاہیے اگر وہ قتل کردیتا ہے یا قتل کردیا جاتا ہے تو اس کو معذور سمجھا جائے گا بشرطیکہ فتنہ و فساد کے کھڑے ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔ لیکن جب امت مسلمہ کسی ایک امام (کی حکمرانی) پر مجتمع ہو جائے چاہے وہ انصاف کے ساتھ ہو یا جبراً ، پھر اس کے خلاف خروج کرنا ممنوع ہے۔ ایسا کرنے والے اصل میں اطاعت کی لاٹھی کو توڑنا چاہتے ہیں۔ حکمران کے لیے ضروری ہے کہ اس کے خلاف خروج کرنے والوں سے مذاکرات کرے۔ اگر مذاکرات کے بعد بھی وہ اس کی اطاعت سے انکار کرتے ہیں اور مسلمانوں کو ڈراتے ہیں تو حکمران پر واجب ہے کہ ان کے خلاف قتال کرے تاکہ ان کے شر کو روکا جائے اور رعایہ پر بھی واجب ہے کہ وہ حکمران کا ساتھ دیں۔ اس وقت تک ان خروج کرنے والوں سے قتال کریں جب تک وہ باز نہ آ جائیں یا پھر اللہ کے حکم کی طرف لوٹ نہ آئیں۔ اطاعت سب کے لیے ایک جیسی ہے چاہے وہ باغی ہوں یا خارجی ہوں۔
تشریح: العربية
أخبر النبي صلى الله عليه وسلم خالد بن عرفطة بأن هناك اختلافًا وحروبًا وفتنًا ستكون في المستقبل، مثل أن لا يكون للأمة إمام يقودها، أصلا، أو بأن يكون في كل قطر والٍ، فتحدث بينهم فتن، وتقوم بينهم حروب، وأمره باعتزال الفتنة، وبالكف والقعود عنها، وعدم الدخول فيها، ولو قتل مظلومًا خير له من أن يَقتل مسلمًا، وذلك بأن يلزم بيته، أو أن يتحول من بلد الفتنة أصلًا، لكن دلت الأدلة أن له أن يدافع عن نفسه في الفتنة وعن أهله وعن ماله، وهو معذور إن قتل أو قتل إن لم يترتب فساد وفتنة، وأما إذا كانت كلمة المسلمين مجتمعة على إمام واحد؛ سواء كان عدلاً أو جائرًا، ثم خرج عليه خارجة لهم منعة، يريدون شق عصا الطاعة، والخروج على الوالي فهؤلاء يجب على ولي الأمر أن يراسلهم، فإذا راسلهم، وامتنعوا عن الطاعة، وأخافوا المسلمين، فيجب عليه قتالهم؛ ليكف شرهم، ويجب على الرعية القيام معه، وقتال هؤلاء الخارجين حتى يفيئوا ويعودوا إلى أمر الله، والطاعة سواء كانوا بغاة أو خوارج.
- وجوب ترك القتال عند ظهور الفتن والتحذير من الدخول فيها.
- أنه لا يجب الدفاع عن النفس، وقوله: "إن استطعت" يدل على أنها لا تحرم المدافعة وأن النهي للتنزيه لا للتحريم.
- أن في ذلك آية نبوية ومن دلائل النبوة؛ فقد وقع ما أخبر به -صلى الله عليه وسلم-.
- شفقة النبي -صلى الله عليه وسلم- على أمته بإرشادهم وقت الفتن، ومراعاة المصلحة العامة.