حدیث

جس مسلمان کے پاس کوئی ایسی شے ہو، جس کے بارے میں وصیت کرنا چاہے، اسے یہ زیب نہیں کہ دو راتیں بھی گزارے، مگر اس حال میں کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی موجود ہو۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما مرفوعاً: «ما حق امرئ مسلم له شيء يوصي فيه؛ يبيت ليلتين إلا ووصيته مكتوبة عنده». زاد مسلم: قال ابن عمر: «ما مرت علي ليلة منذ سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ذلك، إلا وعندي وصيتي».

ترجمہ

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جس مسلمان کے پاس کوئی ایسی شے ہو، جس کے بارے میں وصیت کرنی چاہے، اسے یہ زیب نہیں کہ دو راتیں بھی گزارے، مگر اس حال میں کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی موجود ہو“۔ مسلم شریف کی حدیث میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے جب سے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے، تب سے کوئی رات ایسی نہیں گزری کہ میرے پاس میری وصیت موجود نہ ہو۔

تشریح

یہ بات درست، ٹھیک اور تقاضائے احتیاط کے مطابق نہیں ہے کہ جس شخص کے پاس کوئی ایسی شے ہو، جس کے بارے میں وہ وصیت کرنا چاہتا ہواور جس کی وہ وضاحت کرنا چاہتا ہو کہ وہ اس میں لاپرواہی برتے، یہاں تک کہ لمبی مدت گزر جائے۔ بلکہ اسے چاہیےکہ وہ فورا اسے لکھ لے اور اسے واضح کر دے۔ زیادہ سے زیادہ مدت جس کی چھوٹ دی جا سکتی ہے، ایک یا دو راتیں ہیں۔ اسی وجہ سے ابن عمر رضی اللہ عنہما اس نبوی نصیحت کو سننے کے بعد رسول اللہ ﷺ کے حکم کی پیروی اور بیان حق کے لیس ہر رات اپنی وصیت کو خیال سے رکھا کرتے تھے۔ پھر وصیت کی دو قسمیں ہیں: اول: مستحب، یہ ایسی وصیت ہے، جو نفلی اور اللہ سےقریب کرنے والی چیزوں کے سلسلے میں کی جا‎‎ۓ۔ دوم: واجب، یہ ایسی وصیت ہے، جو ایسے واجب حقوق کے سلسلے میں کی جاۓ، جن کے بارے میں اس کی وفات کے بعد کو‎ئی دلیل نہ رہے۔ کیوں کہ "جس کام کے بغیر واجب کام پورا نہ ہو، وہ بھی واجب ہے"۔ اور ابن دقیق العید بیان فرماتے ہیں کہ یہ حدیث واجب قسم پر ہی محمول ہے۔

تشریح: العربية

ليس من الحق والصواب والحزم لمن عنده شيء يريد أن يوصي به ويبينه، أن يهمله حتى تمضى عليه المدة الطويلة؛ بل يبادر إلى كتابته وبيانه، وغاية ما يسامح فيه الليلة والليلتان. ولذا فإن ابن عمر رضي الله عنهما- بعد أن سمع هذه النصيحة النبوية- كان يتعاهد وصيته كل ليلة، امتثالا لأمر الشارع، وبيانا للحق. والوصية قسمان: مستحب، وهو ما كان للتطوعات والقربات، وواجب، وهو ما كان في الحقوق الواجبة، التي ليس فيها بينة تثبتها بعد وفاته لأن "ما لا يتم الواجب إلا به ، فهو واجب"، وذكر ابن دقيق العيد أن هذا الحديث محمول على النوع الواجب.

  • مشروعية الوصية وعليها إجماع العلماء، وعمدة الإجماع الكتاب والسنة.
  • أن الوصية قسمان: أ- مستحب ب- وواجب. وهذا الحديث محمول على النوع الواجب.
  • مشروعية المبادرة إليها، بيانا لها، وامتثالا لأمر الشارع فيها، واستعداداً للموت، وتبصُّراً بها وبمصرفها، قبل أن يشغله عنها شاغل.
  • أن الكتابة المعروفة تكفى لإثبات الوصية والعمل بها، لأنه لم يذكر شهوداً لها، والخط إذا عرف، بينة ووثيقة قوية.
  • فضل ابن عمر رضي الله عنه، ومبادرته إلى فعل الخير، واتباع الشارع الحكيم.
  • قال ابن دقيق العيد: والترخيص في الليلتين والثلاث دفع للحرج والعسر.
  • أن الأشياء المهمة ينبغي أن تضبط بالكتابة لأنها أثبت من الضبط بالحفظ لأنه يخون غالبا.
  • الندب إلى التأهب للموت والاحتراز قبل الفوت، لأن الإنسان لا يدري متى يفجأه الموت.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید