حدیث

تم میں سے جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ وہ اپنی جان کی طرف سے بے خوف ہو، جسمانی اعتبار سے صحت مند ہو، ایک دن کی خوراک کا سامان اس کے پاس ہو، تو گویا اس کے لیے ساری دنیا جمع کردی گئی۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

حَسَنْاسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عبيد الله بن محصن الأنصاري الخطمي رضي الله عنه مرفوعاً: «مَنْ أصْبَحَ مِنْكُمْ آمِنًا في سربِهِ، مُعَافَىً في جَسَدِهِ، عِنْدَهُ قُوتُ يَوْمِهِ، فَكَأنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا بِحَذَافِيرِهَا».

ترجمہ

عبیداللہ بن محصن انصاری خطمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ وہ اپنی جان کی طرف سے بے خوف ہو، جسمانی اعتبار سے صحت مند ہو، ایک دن کی خوراک کا سامان اس کے پاس ہو، تو گویا اس کے لیے ساری دنیا جمع کردی گئی“۔

تشریح

جس نے اس حال میں صبح کی کہ وہ اپنی ذات کے اعتبار سے بے خوف ہو، ایک قول کی رو سے اپنے گھر اور قوم سے متعلق اسے کوئی خوف لاحق نہ ہو، جسمانی لحاظ سے صحت مند ہو اور اس کے پاس صبح شام کا کھانا ہو، تو اس نے گویا ساری دنیا پالی؛ بایں طور کہ گویا دنیا تمام اطراف سے اکٹھی اور جمع کرکے اس کے سامنے ڈال دی گئی۔

تشریح: العربية

من أصبح آمناً في نفسه، وقيل بيته وقومه، صحيحاً في بدنه عنده غداؤه وعشاؤه، فكأنما حصل على كل الدنيا بأن ضُمت وجُمعت له الدنيا بجميع جوانبها.

  • طلب الرزق لا يكون بالقوة وإنما بالسعي والتوكل على الله -تعالى-.
  • حاجة العبد في الدنيا تتلخص في الأمن والكفاية، فمن ملكهما فقد ملك الدنيا بأسرها.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید