حدیث

اگر کسی شخص نے ایک بالشت بھر زمین بھی ظلم سے لے لی، تو سات زمینوں کا طوق اس کی گردن میں ڈالا جائے گا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عائشة رضي الله عنها عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «مَنْ ظَلَم قِيدَ شِبْرٍ مِن الأرْضِ؛ طُوِّقَهُ مِن سَبْعِ أَرَضِين».

ترجمہ

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اگر کسی نے ایک بالشت بھر زمین بھی ظلم سے لے لی، تو سات زمینوں کا طوق اس کی گردن میں ڈالا جائے گا“۔

تشریح

ایک انسان کا مال دوسرے انسان پر حرام ہے، لہذا کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی اور کے حق میں سے اس کی رضامندی و خوش دلی کے بغیر کچھ بھی حصہ حاصل کرے۔ اور ناحق مال لینے کی بدترین شکل کسی کی زمین کو ظلما ہڑپ لینا ہے؛ اس لیے کہ یہ ظالمانہ قبضہ مدت دراز تک قائم رہتا ہے۔ اسی بنا پر نبی ﷺ نے آگاہ فرمادیا کہ جو شخص کسی کی زمین ہڑپ لے؛ کم ہو یا زیادہ، وہ روز قیامت سخت ترین عذاب کے ساتھ حاضر ہوگا۔ چنانچہ اس کی گردن انتہائی موٹی اور دراز تر کردی جائے گی اور پھر غاصبانہ طور پر حاصل کردہ زمین اور اس زمین کے نیچے سات گنا اراضی کا طوق بناکر اس کی گردن میں ڈالا جائے گا۔ یہ صاحب کسی کی زمین پر ناجائز قبضہ کے ظالمانہ عمل کا بدلہ ہوگا۔ خیال رہے کہ اس وعید میں ان عام اراضی کا استعمال شامل نہیں، جو بغیر ملکیت اور قبضہ کے استعمال میں لائے جائیں۔

تشریح: العربية

مال الإنسان على الإنسان حرام، فلا يحل لأحد أخذ شيء من حق أحد، إلا بطيبة نفسه، وأشد ما يكون ذلك ظلم الأرض، لطول مدة استمرار الاستيلاء عليها ظلماً. ولذا فإن النبي صلى الله عليه وسلم أخبر أن من ظلم قليلا أو كثيراً من الأرض جاء يوم القيامة بعذاب شديد، بحيث تغلظ رقبته، وتطول، ثم يطوق الأرض التي غصبها وما تحتها، إلى سبع أرضين، جزاء له على ظلمه صاحب الأرض بالاستيلاء عليها. ولا يدخل في الوعيد استعمال الأراضي العامة دون تملك واستيلاء.

  • تحريم الغصب، لأنه من الظلم الذي حرمه الله على نفسه، وجعله بيننا محرماً.
  • أن الظلم حرام، في القليل والكثير، وهنا فائدة ذكر الشبر.
  • أن من ملك ظاهر أرض، ملك باطنها وما فيها، فلا يجوز أن ينقب أحد من تحته، أو يجعل نفقا أو سرباً ونحو ذلك إلا بإذنه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید