حدیث

رسول اللہ ﷺ نے نکاحِ شغار سے منع فرمایا ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما : «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن الشِّغَارِ».

ترجمہ

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نکاحِ شغار سے منع فرمایا ہے۔

تشریح

عقدِ نکاح میں اصل تو یہی ہے کہ یہ عورت کو دیے جانے والے حق مہر کے ساتھ پورا ہوتا ہے جو اس کے نفس کے عوض کے طور پر دیا جاتا ہے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے جاہلیت کے اس نکاح سے منع فرمایا جس کے ذریعے اولیاء اپنے زیر پرورش اور زیر نگرانی موجود لڑکیوں پر ظلم کیا کرتے تھے بایں طور کہ وہ بغیر کسی ایسے مہر کے ان کا نکاح کر دیتے جس کا فائدہ انہیں پہنچتا۔ وہ تو اپنی رغبت اور خواہش کے تقاضے کے مطابق انہیں استعمال کرتے ہوئے اس شرط پر انہیں ان کے شوہروں کے حوالے کر دیتے کہ وہ اپنی زیر پرورش موجود لڑکیوں کا بغیر مہر کے ان کے ساتھ نکاح کر دیں گے۔ یہ ظلم ہے اور اللہ کے نازل کردہ حکم کے برخلاف ان کی شرمگاہوں میں تصرف ہے۔ اور اس طرح کا کوئی بھی معاملہ حرام اور باطل ہوا کرتا ہے۔

تشریح: العربية

الأصل في عقد النكاح أنه لا يتم إلا بصداق للمرأة، يقابل ما تبذله من نفسها. ولهذا فإن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن هذا النكاح الجاهلي، الذي يظلم به الأولياء مولياتهم، إذ يزوجونهن بلا صداق يعود نفعه عليهن، وإنما يبذلونهن بما يُرضي رغباتهم وشهواتهم، فيقدمونهن إلى الأزواج، على أن يزوجوهم مولياتهم بلا صداق. فهذا ظلم وتصرف في فروجهن بغير ما أنزل الله، وما كان كذلك فهو محرم باطل.

  • النهي عن نكاح الشغار، والنهي يقتضي الفساد، فهو غير صحيح.
  • أن العلة في تحريمه وفساده، هو خلوه من الصداق المسمى، ومن صداق المثل، وأشار إليه بقوله: [وليس بينهما صداق].
  • وجوب النصح للمولية. فلا يجوز تزويجها بغير كفء، لغرض الوَلي ومقصده.
  • تفسير الشغار صحيح موافق لما ذكر أهل اللغة، فإن كان مرفوعا فهو المقصود، وإن كان من قول الصحابي فمقبول أيضا لأنه أعلم بالمقال وأفقه بالحال.
  • أجمع العلماء على تحريم هذا النكاح، وهو باطل ولو مع صداق و الله أعلم.
  • قال النووي: أجمعوا على أن غير البنات من الأخوات وبنات الأخ وغيرهن كالبنات في ذلك.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید