ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أنس بن مالك رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا».
ترجمہ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”آسانی پیدا کرو، مشکل میں نہ ڈالو، خوش خبری دو اور متنفر نہ کرو“۔
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دین اور دنیا سے متعلق سبھی معاملوں میں، شرعی دائرے میں رہ کر، لوگوں کا بوجھ ہلکا کرنے، ان کو آسانی دینے اور دشواری نہ ڈالنے کا حکم دیتے تھے۔ ساتھ ہی خیر کی خوش خبری دینے اور لوگوں کو دین سے نفرت نہ دلانے کی ترغیب دیتے تھے۔
فوائد
- ایک مؤمن کی ذمے داری ہے کہ وہ لوگوں کو اللہ سے محبت دلائے اور اچھے کام کی ترغیب دے۔
- داعی الی اللہ کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دینے کے طریقہ کے بارے میں حکمت اپنائے۔
- خوش خبری دینے کے نتیجے میں داعی اور اس کی دعوت کے بارے میں لوگوں کے اندر خوشی، توجہ اور اطمینان کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
- لوگوں کو دشواری میں ڈالنے سے داعی کی بات سے دوری، شکوک و شبہات اور بے رخی پیدا ہوتی ہے۔
- بندوں پر اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ اس نے ان کے لیے ایک کشادگى والے دین اور آسان شریعت کا انتخاب کیا ہے۔
- آسانی سے مراد وہی آسانی ہے، جو شرعی تعلیمات کے عین مطابق ہو۔
تشریح: العربية
يَأمُرُ النبيُّ صلى الله عليه وسلم بالتخفيف والتيسير على الناس وعدم التَّعْسِيْر عليهم في جميع أمور الدين والدنيا، وذلك في حدود ما أباح الله وشرع. ويَحُثُّ على تَبْشِيرِهم بالخير، وعدم تَنْفِيرِهم منه.
- واجب المؤمن أن يحبب الناس بالله ويُرغِّبهم في الخير.
- ينبغي على الداعي إلى الله أن ينظر بحكمة إلى كيفية تبليغ دعوة الإسلام إلى الناس.
- التبشير يُولِّدُ السرورَ والإقبالَ والاطمئنانَ للداعي ولِمَا يَعرِضه على الناس.
- التعسير يولِّدُ النفورَ والإدبارَ والتشكيكَ في كلام الداعي.
- سعة رحمة الله بعباده وأنه رضي لهم دينًا سمحًا وشريعة ميسرة.
- التيسير المأمور به هو ما جاءت به الشريعة.