حدیث

رسول اللہ ﷺ جب اپنے بستر پر لیٹتے تو اپنے ہاتھوں میں پھونک مارتے اور معوذات (سورہ اخلاص، سورہ فلق اور سورہ ناس) پڑھتے اور دونوں ہاتھوں کو جسم پر پھیر لیتے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا أخذ مَضْجَعَهُ نَفَثَ في يديه، وقرأ بالمُعَوِّذَاتِ، ومسح بهما جسده. وفي رواية: أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا أَوَى إلى فِرَاشِهِ كل ليلة جَمَعَ كَفَّيْهِ، ثم نَفَثَ فيهما فقرأ فيهما: «قل هو الله أحد، وقل أعوذ برب الفلق، وقل أعوذ برب الناس» ثم مسح بهما ما استطاع من جسده، يبدأ بهما على رأسه ووجهه، وما أَقْبَلَ من جسده، يفعل ذلك ثلاث مرات.

ترجمہ

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب اپنے بستر پر لیٹتے تو اپنے دونوں ہاتھوں میں پھونک مارتے اور معوذات (سورہ اخلاص، سورہ فلق اور سورہ ناس) پڑھتے اور دونوں ہاتھوں کو جسم پر پھیر لیتے۔ ایک دیگر روایت میں ہے کہ ہر رات نبی ﷺ جب اپنے بستر پر جاتے تو اپنی ہتھیلیوں کو ملا کر ان میں پھونک مارتے اور ان پر ﴿قل هو الله أحد﴾ ، ﴿قل أعوذ برب الفلق﴾ اور ﴿قل أعوذ برب الناس﴾ پڑھتے اور پھر دونوں ہاتھوں کو جہاں تک ہو سکتا جسم پر پھیر لیتے۔ آپ ﷺ اپنے سر، چہرے اور جسم کے سامنے کے حصے سے (ہاتھ پھیرنے کی) ابتداء کرتے اور تین دفعہ ایسا کرتے۔

تشریح

دنیا اور آخرت میں نبی ﷺ کی زوجہ اُم المومنین (عائشہ ) رضی اللہ عنہا ہمارے لیے اس نبوی سنت مبارکہ کو بیان کر رہی ہیں کہ ہر رات رسول اللہ ﷺ جب اپنے بستر پر تشریف لے جاتے تو اپنی ہتھیلیوں کو باہم ملا کر ان میں بلا تھوک ہلکی سی پھونک مارتے اور ان میں ﴿قل هو الله أحد﴾ ، ﴿قل أعوذ برب الفلق﴾ اور ﴿قل أعوذ برب الناس﴾ پڑھتے۔ اس میں کوئی حرج نہیں کہ پڑھنے والا پہلے پھونک مار لے اور پھر پڑھے یا پھر پہلے پڑھ لے اور پھر پھونک مارے کیوں کہ حدیث (ان سورتوں کو) ترتیب کے ساتھ یا یکے بعد دیگرے پڑھنے پردلالت نہیں کرتی۔ پھر آپ ﷺ جہاں تک ہو سکتا اپنے ہاتھوں کو اپنے جسم پر پھیر لیتے اور سر، چہرے اور سامنے کے حصے سے آغاز کرتے۔ آپ ﷺ تین دفعہ پڑھتے، تین دفعہ پھونکتے اور تین دفعہ (جسم پر ہاتھ) پھیرتے۔

تشریح: العربية

تروي لنا أم المؤمنين زوجة نبينا صلى الله عليه وسلم في الدنيا والآخرة: هذه السنةَ النبوية الشريفة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كل ليلة إذا أخذ مضجعه يضم كفيه معًا ثم ينفخ فيهما نفخًا لطيفًا بلا ريق، ويقرأ فيهما: "قل هو الله احد" و"قل أعوذ برب الفلق" ، و"قل أعوذ برب الناس"، سواء نفح أولًا ثم قرأ، أو قرأ أولا ثم نفخ لا يضر؛ لأن الحديث لا يدل على الترتيب والتعقيب، ثم يمسح بهما ما استطاع من جسده يبدأ بهما على رأسه ووجهه، وما أقبل من جسده، يفعل ذلك ثلاث مرات من القراءة والنفخ والمسح.

  • قول عائشة -رضي الله عنها-: "كان إذا أوى إلى فراشه كل ليلة" يدل على أن النبي -صلى الله عليه وسلم- كان محافظًا على ذلك.
  • تفاضل بعض آيات وسور القرآن على بعض، فآية الكرسي أعظم آية في كتاب الله -تعالى-، وسورة الفاتحة هي أفضل سور القرآن، والسور التي وردت في الحديث يدل على فضلها وشرفها هذا الحديث.
  • بيان ما للقرآن من تأثير في حفظ الإنسان بإذن الله -تعالى- من الجن وسائر الأمراض.
  • المسح باليد عند الرقية أقوى في النفع.
  • هذا الذكر مع تضمنه للحفظ وتحصين العبد فهو عبادة وقربى لله -تعالى-، وعمل صالح يختم به المسلم ليلته.
  • يعلمنا النبي -صلى الله عليه وسلم- في هذا الحديث بالقول والعمل ما نقوله ونفعله إذا أردنا النوم، وفي ذلك اللجوء التام لله تعالى والنجاة من كل ضرر.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید