حدیث

رسول اللہ ﷺ جامع دعاؤں کو پسند فرماتے تھے اور غیر جامع دعاؤں کو چھوڑ دیتے تھے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه أبو داود وأحمد

عربی متن

عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحِبُّ الْجَوَامِعَ مِنَ الدُّعَاءِ، وَيَدَعُ مَا سِوَى ذَلِكَ.

ترجمہ

عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ جامع دعاؤں کو پسند فرماتے تھے اور غیر جامع دعاؤں کو چھوڑ دیتے تھے۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ایسی جامع دعائيں پسند فرماتے تھے، جو دنیا وآخرت کی بھلائيوں پر مشتمل ہوں، کم الفاظ میں زیادہ معانی کو سمیٹے ہوئے ہوں، ان کے اندر اللہ کی تعریف اور نیک اغراض ومقاصد ہوں۔ جن دعاؤں کے اندر یہ اوصاف نہ ہوں، ان سے آپ گریز کرتے تھے۔

فوائد

  • دعا خیر کے معانی پر مشتمل مختصر مگر جامع الفاظ کے ذریعے کرنا مستحب ہے۔ اس میں تکلف اور تعمق سے کام لینا مکروہ ہے۔ یہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے طریقے کے خلاف بھی ہے۔
  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو جامع ترین کلمات میں بات رکھنے کی خصوصی صلاحیت عطا کی گئی تھی۔
  • کوشش یہ ہو کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت دعاؤں کا اہتمام کیا جائے، چاہے لمبی اور زیادہ الفاظ والی ہی کیوں نہ ہوں۔ اس طرح کی تمام دعائيں جامع دعاؤں کے ضمن میں آتی ہیں۔
تشریح: العربية

كَانَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم يَستحِبُّ الأدعية الجامعة لخير الدنيا والآخرة مما لفظه قليل ومعناه كثير، ويكون فيه الثناء على الله تعالى، والأغراض الصالحة، ويَدَعُ ما عدا ذلك.

  • استحباب الدعاء بالألفاظ اليسيرة الجامعة لمعاني الخير، وكراهة التكلف والتَّشْقِيْق في المسألة، وهو خلاف هدي النبي صلى الله عليه وسلم.
  • خُصّ رسول الله صلى الله عليه وسلم بجوامع الكلم.
  • الحرص على ما ثبت أن النبي صلى الله عليه وسلم دعا به؛ وإن كان طويلًا، وكثرت كلماته، فكلُّه من الأدعية الجامعة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید