حدیث

”وراثت کے مقررہ حصے ان کے حق داروں کو دو۔ پھر جو کچھ باقی بچ جائے وہ میت کے سب سے زیادہ قریبی مرد (وارث) کے لیے ہے۔“

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَلْحِقُوا الفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَلِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ».

ترجمہ

ابن عباس رضي الله عنهما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”وراثت کے مقررہ حصے ان کے حق داروں کو دو۔ پھر جو کچھ باقی بچ جائے وہ میت کے سب سے زیادہ قریبی مرد (وارث) کے لیے ہے۔“

تشریح

نبی ﷺ میت کا ترکہ تقسیم کرنے والوں کو حکم دے رہے ہیں کہ وہ انہیں اس کے حق داروں میں منصفانہ طریقے سے اور شریعت کی روشنی میں اللہ کی منشا کے عین مطابق تقسیم کریں۔ چنانچہ وہ ورثا جن کے حصے اللہ کی کتاب کی رو سے معین ہیں، انہیں ان کے حصے دیے جائیں گے۔ وہ حصے یہ ہیں: دو تہائی، ایک تہائی، چھٹا حصہ، آدھا، چوتھائی اور آٹھواں حصہ۔ اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اسے میت کے قریبی مرد رشتہ داروں کو دے دیا جائے گا، جنہیں عصبہ کہا جاتاہے۔

فوائد

  • یہ حدیث ترکہ کی تقسیم کے سلسلے میں ایک اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔
  • ترکہ کی تقسیم کا آغاز مقررہ حصے والوں سے ہوگا۔
  • مقررہ حصوں کے بعد جو بچ جائے وہ عصبہ کا حق ہے۔
  • اس میں بھی زیادہ قریبی رشتے دار کو مقدم رکھا جائے گا۔ کوئی دور کا رشتے دار جیسے چچا، قریبی رشتے دار جیسے باپ کے ہوتے ہوئے عصبہ کی حیثیت سے وارث نہيں بنے گا۔
  • جب مقررہ حصے والوں کو دینے کے بعد مال ختم ہو جائے اور کچھ نہ بچے، تو عصبہ کو کچھ نہيں ملے گا۔
تشریح: العربية

يأمر النبي صلى الله عليه وسلم القائمين على قسمة التركة أن يوزعوها على مستحقيها بالقسمة العادلة الشرعية كما أراد الله تعالى، فيعطى أصحاب الفروض المقدرة فروضهم في كتاب الله، وهي الثلثان والثلث والسدس والنصف والربع والثمن، فما بقى بعدها، فإنه يعطى إلى من هو أقرب إلى الميت من الرجال، ويسمون العصبة.

  • الحديث قاعدة في قسمة التركة.
  • أن قسمة الفرائض تكون بالبداءة بأهل الفرائض.
  • أن ما بقي بعد الفروض للعصبة.
  • تقديم الأقرب فالأقرب فلا يرث عاصب بعيد كالعم، مع وجود عاصب قريب كالأب.
  • أنه لا شيء للعاصب إذا استغرقت الفروض التركة، أي لم يبق منها شيئًا.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید