حدیث

تمہیں معلوم ہے، مجزز (ایک قیافہ شناس) نے ابھی ابھی زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید کو (چادر اوڑھے لیٹے ہوئے) دیکھا تو کہا کہ یہ پاؤں ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عائشة رضي الله عنها : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل عليَّ مسرورًا تبرُقُ أسارِيرُ وجهه. فقال: ألم تَرَيْ أن مُجَزِّزًا نظر آنفًا إلى زيد بن حارثة وأسامة بن زيد، فقال: إن بعض هذه الأقدام لمن بعض». وفي لفظ: «كان مجزِّزٌ قائفًا».

ترجمہ

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ بیان کرتی ہیں کہ ایک بار رسول اللہ ﷺ میرے پاس آئے اس حال میں کہ آپ بہت خوش تھے، آپ کا چہرہ دمک رہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہیں معلوم ہے، مجزز (قیافہ شناس) نے ابھی ابھی زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید کو (چادر اوڑھ کر لیٹے ہوئے) دیکھا تو کہا کہ یہ پاؤں ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ مجزز قیافہ شناس تھا۔

تشریح

زید بن حارثہ کا رنگ گورا تھا جب کہ ان کے بیٹے اسامہ گندمی رنگ کے تھے۔ لوگ ان کے رنگ ایک دوسرے سے مختلف ہونے کی وجہ سے ان کے بارے میں شک کیا کرتے تھے اور اسامہ رضی اللہ عنہ کی اپنے والد کی طرف نسبت کی صحت میں باتیں کیا کرتے تھے اور اس کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کو بہت اذیت پہنچتی تھی۔ ایک دفعہ مجزز مدلجی کا جو قیافہ شناس تھا ان کے قریب سے گزر ہوا۔ ان دونوں نے اپنے سروں کو ایک چادر سے ڈھانپ رکھا تھا لیکن ان کے پاؤں باہر نظر آرہے تھے۔ اس نے یہ دیکھ کر کہا کہ یہ پاؤں ایک دوسرے سے ہیں کیونکہ اسے ان کے مابین مشابہت نظر آئی تھی۔ نبی ﷺ اس قیافہ شناس کی بات کو سن رہے تھے۔ آپ ﷺ اس سے بہت خوش ہوئے یہاں تک کہ آپ ﷺ اس حال میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے کہ آپ کا چہرہ اس بات پر خوشی و اطمئنان کی وجہ سے دمک رہا تھا کہ اسامہ رضی اللہ عنہ کی اپنے والد کی طرف نسبت درست ہے اور اس لیے بھی کہ اس سے ان لوگوں کی باتوں کا رد ہو گیا تھا جو بلا کچھ جانے لوگوں کی عزتوں میں اپنی زبانیں چلاتے ہیں۔

تشریح: العربية

كان زيد بن حارثة أبيض اللون، وابنه أسامة أسمر، وكان الناس يرتابون فيهما -من أَجْلِ اختلاف لونيهما-، ويتكلمون في صحة نسبة أسامة إلى أبيه، بما يؤذى رسول الله صلى الله عليه وسلم. فمرَّ عليهما (مجزِّز المدلجي) القائف، وهما قد غَطَّيَا رَأسيْهما في قطيفة -أي رداء-، وبدت أرجلهما. فقال إن بعض هذه الأقدام لَمنْ بعض، لما رأى بينهن من الشبه. وكان كلام هذا القائف على سمع من النبي صلى الله عليه وسلم، فسُرَّ بذلك سرورا كثيرا، حتى دخل على عائشة وأسارير وجهه تَبْرق، فرحًا واستبشارًا للاطمئنان إلى صحة نسبة أسامة إلى أبيه، ولِدحْض كلام الذين يطلقون ألسنتهم في أعراض الناس بغير علم.

  • العمل بقول القافة في إلحاق النسب، مع عدم ما هو أقوى منها، كالفراش، وهو قول الجمهور؛ استدلالا بسرور النبي صلى الله عليه وسلم في هذه القصة، ولا يُسَرُّ إلا بحق.
  • يكفي قائف واحد، ولكن اشترط العلماء فيه أن يكون عَدْلا مُجَرَّبًا في الإصابة؛ لأنه لا يقبل الخبر، ولا ينفذ الحكم إلا ممن اتصف بهذين الوصفين.
  • تَطَلُّع الشارع الحكيم إلى صحة الأنساب، وإلحاقها بأصولها.
  • الفرح والتبشير بالأخبار السارة، وإشاعتها.
  • لا تختص بالقيافة قبيلة بعينها، وإنما يعمل بخبر من اجتمعت فيه شروط الإصابة من القافة.
  • جواز اضطجاع الرجل مع ولده في غطاء واحد، خاصة إذا دعت لذلك حاجة.
  • وفي الحديث جواز الشهادة على المنتقبة، والاكتفاء بمعرفتها من غير رؤية الوجه
  • قبول شهادة من شهد دون أن يستشهد عند عدم التهمة.
  • جواز الاستفادة من التقنيات الحديثة التي عُرِفتْ بدقتها في الدلالة على المراد، كتحليل الدي إن إيه (DNA) بالشروط التي ذكرتها المجامع الفقهية المعاصرة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید