حدیث

قیامت کے دن سب سے سخت عذاب ان لوگوں کو دیا جائے گا، جو عمل تخلیق میں اللہ کے مشابہ ہونا چاہتے ہيں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤمنينَ رضي الله عنها قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ سَتَرْتُ سَهْوَةً لِي بِقِرَامٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ، فَلَمَّا رَآهُ هَتَكَهُ وَتَلَوَّنَ وَجْهُهُ وَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ، أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ بِخَلْقِ اللهِ» قَالَتْ عَائِشَةُ: «فَقَطَعْنَاهُ فَجَعَلْنَا مِنْهُ وِسَادَةً أَوْ وِسَادَتَيْنِ».

ترجمہ

امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم میرے یہاں آئے تو دیکھا کہ میں نے اپنے ایک طاق پر ایک کپڑا ڈال رکھا ہے، جس پر تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ اس پر نظر پڑتے ہی آپ نے اسے کھینچ کر ہٹا ڈالا، آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور فرمایا : "اے عائشہ! قیامت کے دن سب سے سخت عذاب ان لوگوں کو دیا جائے گا، جو عمل تخلیق میں اللہ کے مشابہ ہونا چاہتے ہيں۔" عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہيں : لہذا ہم نے اسے پھاڑکر اس سے ایک یا دو تکیے بنا لیے۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنے گھر میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے، تو دیکھا کہ انھوں نے ایک طاق پر ایک پردہ لگا رکھا ہے، جس پر جان دار چیزوں کی تصویریں بنی ہوئی ہيں۔ یہ دیکھ کر غصے سے آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ آپ نے اسے کھینچ کر ہٹا دیا اور فرمایا : قیامت کے دن سب سے سخت عذاب ان لوگوں کو دیا جائے گا، جو اپنی تصویروں کے ذریعے عمل تخلیق میں اللہ کے مشابہ ہونا چاہتے ہيں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : چنانچہ ہم نے اسے پھاڑ کر ایک یا دو تکیے بنا لیے۔

فوائد

  • غلط کام دیکھتے ہی بلا تاخیر اس کی تردید ہو جانی چاہیے، جب تک کہ اس کی تردید اس سے زیادہ بڑی برائی کی وجہ نہ بنے۔
  • قیامت کے دن گناہ کے مطابق عذاب میں بھی تفاوت ہوگا۔
  • جان دار چیزوں کی تصویر بنانا کبیرہ گناہ ہے۔
  • تصویر بنانے کی حرمت کے پیچھے کارفرما ایک حکمت یہ ہے کہ یہ عمل تخلیق میں خود کو اللہ کے مشابہ بتانا ہے۔ چاہے تصویر بنانے والے کے دل میں یہ بات ہو یا نہ ہو۔
  • شریعت کی کوشش ہے کہ اموال کے ناجائز پہلوؤں سے بچتے ہوئے ان سے استفادہ کیا جائے اور اس طرح ان کی حفاظت کی جائے۔
  • جان دار چیزوں کی تصویر بنانا ممنوع ہے۔ چاہے اس کی شکل جو بھی ہو۔ خواہ حقير سی شے ہی کیوں نہ ہو۔
تشریح: العربية

دَخَلَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم بيتَه على عائشة رضي الله عنها فوجدَها قد سترتْ الخِزانة الصغيرة التي يُوضَع فيها المتاع بقماش فيه تصاوير لذوات الأرواح، فتَغَيَّرَ لونُ وجهِهِ غضبًا لله ونَزَعَه، وقال: أشدُّ الناس عذابًا يوم القيامة الذين يُشابِهون بتصاويرهم خلقَ الله. قالت عائشة: فجعلناه وِسَادَة أو وسادتين.

  • إنكار المنكر وقتَ رؤيتِه وعدم التراخي في ذلك، ما لم يكن في ذلك مفسدة أكبر.
  • العذاب يوم القيامة يتفاوت بحسب عِظَمِ الذنب.
  • تصوير ذوات الأرواح من كبائر الذنوب.
  • من حِكَمِ تحريم التصوير مضاهاة خلق الله تعالى، سواءً قصد المصوِّرُ المضاهاة أو لم يقصد.
  • حرص الشريعة على حفظ الأموال بالاستفادة منها بعد تجنيبِها ما يحرم فيها.
  • المنع من صناعة صور ذات الأرواح على أيِّ شَكْلٍ كان، ولو كانت ممتهنة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید