حدیث

ان بے زبان جانوروں کے سلسلے میں الله سے ڈرو۔ لہٰذا مناسب طریقے سے ان پر سواری کرو اور معروف طریقے سے ان کو کھاؤ۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن سهل بن عمرو رضي الله عنه قال: مرَّ رسول الله صلى الله عليه وسلم ببعير قد لَحِق ظَهْرُه ببَطْنِهِ، فقال: «اتقوا الله في هذه البهائم المُعْجَمة، فاركَبُوها صالحة، وكُلُوها صالحة».

ترجمہ

سہل بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ کا ایک اونٹ کے پاس سے گزر ہوا، جس کا پیٹ (بھوک کی وجہ سے) اس کی پشت سے مل گیا تھا، آپ ﷺ نے (اس کی یہ حالت دیکھ کر) فرمایا: ”ان بے زبان جانوروں کے سلسلے میں الله سے ڈرو۔ لہٰذا مناسب طریقے سے ان پر سواری کرو اور معروف طریقے سے ان کو کھاؤ“۔

تشریح

نبی کریم ﷺ نے ایک اونٹ کو دیکھا جس کی کمر شدتِ بھوک کی وجہ سے اس کے پیٹ کے ساتھ لگی ہوئی تھی۔ تو آپ ﷺ نے جانوروں کے ساتھ نرمی کرنے کا حکم فرمایا۔ لہذا ہر انسان پر لازم ہے کہ وہ جانوروں کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالے۔ اور ان کے کھانے پینے میں کوتاہی نہ کرے۔ اس (ان کا خیال رکھنے) کے بعد اگر وہ ان پر سواری کرے گا تو وہ سواری کے لائق ہوں گے اور اگر ان کو کھائے گا تو وہ کھانے کے لائق ہوں گے۔

تشریح: العربية

رأى النبي صلى الله عليه وسلم بعيرًا قد لصق ظهرُه ببطنه من شدة الجوع، فأمَر صلى الله عليه وسلم بالرِّفْق بالبهائم، وأنه يجب على الإنسان أن يعاملها معاملة حسنة فلا يُكَلِّفها ما لا تستطيع، ولا يُقَصِّر في حقِّها في أَكْل أو شُرْب، فإن ركبها بعد كانت صالحة للركوب، وإن أكلها كانت صالحة للطعام.

  • الأمر بتقوى الله -عز وجل-.
  • وجوب الإحسان إلى الحيوان، بعدم تحميله أكثر من الذي يستطيع.
  • الأمر بالمحافظة على الأموال وعدم إتلافها.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید