حدیث

کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ ”عَضْہ“ کیا چیز ہوتی ہے؟ اس سے مراد وہ چغلی ہے جو لوگوں کے درمیان نفرت پیدا کر دے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن ابن مسعود رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «ألا هل أُنَبِّئُكم ما العَضْهُ؟ هي النَّميمة القَالَةُ بين النّاس».

ترجمہ

ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ ”عَضْہ“ کیا چیز ہوتی ہے؟ اس سے مراد وہ چغلی ہے جو لوگوں کے درمیان نفرت پیدا کر دے“۔

تشریح

آپ ﷺ نے اپنی امت کو لوگوں میں ایک دوسرے کی بات کو غلط طریقے سے نقل کرکے لوگوں کی چغلی کھانے سے ڈرانے کا ارادہ فرمایا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اپنی بات کو استفہام اور سوال کے صیغے سے شروع فرمایا تاکہ دلوں پر زیادہ اثر کرے اور متنبہ کرنے کا باعث بنے۔ آپ ﷺ نے صحابہ سے سوال کیا: العَضْه کیا ہے؟ یعنی جھوٹ اور افترا کیا ہے؟ اس کی تشریح جادو کے ساتھ بھی کی گئی ہے۔ پھر آپ ﷺ نے خود اس سوال کا جواب دیا کہ العَضْه لوگوں کے درمیان لڑائی جھگڑے پیدا کرنے کا نام ہے۔ اس لیے کہ یہی فساد، لوگوں کو تکلیف دینا، محبت کرنے والوں کے دلوں میں تفرقہ ڈالنا، رشتے ختم کرنا اور دلوں کو غصے اور کینہ سے بھرنا جادو کی وجہ سے ہوتا ہے، جس کا لوگوں میں مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔

تشریح: العربية

أراد النبي صلى الله عليه وسلم أن يحذِّر أُمَّتَه مِن الـمَشْي بينَ النَّاس بالنَّمِيمَة، بنَقْل حديث بعضهم في بعض على وَجْه الإفساد بينَهم، فافتتح النبي صلى الله عليه وسلم حديثه بصيغة الاستفهام والسؤال؛ ليكون أَوْقَع في النُّفُوس، وأَدْعَى للانتباه، فسألهم: «ما العَضْهُ» أي: ما الكذب والافتراء؟ وفُسر أيضا بالسحر. ثم أجاب عن هذا السؤال: بأن العَضْهَ هو نَقْلُ الخُصُومة بين الناس؛ لأن ذلك يَفْعَلُ ما يَفْعَلُه السِّحْرُ مِن الفساد، والإضرار بالناس، وتَفْريق القُلُوب بين الـمُتَآلِفَيْنِ، وقَطْع الصِّلَة بين الـمُتَقَارِبَيْنِ، ومَلْء الصُّدُور غَيْظًا وحِقْدًا، كما هو الـمُشَاهَدُ بين النَّاس.

  • أن النَّمِيمَة تَفْعَلُ ما يَفْعَلُه السِّحْر مِن التفريق بين القُلُوب والإفساد بين الناس، لا أنَّ النَّمَّام يَأْخُذُ حُكْمَ الساحر مِن حيثُ الكفر وغيره.
  • تحريم النميمة، وأنها من الكبائر.
  • التعليم على طريقة السؤال والجواب، لأن ذلك أَثْبَتُ في الذِّهْن، وأَدْعَى للانتباه، وأنه من أساليب التربية الإسلامية.
  • حرص الإسلام على حسن العلاقة بين المسلمين والنهي عما يفسدها.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید