ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَسُبُّوا الرِّيحَ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مَا تَكْرَهُونَ فَقُولُوا: اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ الرِّيحِ وَخَيْرِ مَا فِيهَا وَخَيْرِ مَا أُمِرَتْ بِهِ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هَذِهِ الرِّيحِ وَشَرِّ مَا فِيهَا وَشَرِّ مَا أُمِرَتْ بِهِ».
ترجمہ
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم لوگ ہوا کو گالی مت دو۔ اگر اس میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھو، تو یہ دعا پڑھو: ’’اللهم إنا نَسْأَلُكَ مِن خير هذه الريح، وخير ما فيها، وخير ما أُمِرَتْ به، ونعوذ بك من شر هذه الريح، وشر ما فيها، وشر ما أُمِرَتْ به‘‘۔ ( اے اللہ! ہم تجھ سے اس ہوا کی بہتری اور اس کے اندر جو خیر ہے اور جس خیر کا اسے حکم دیا گیا ہے، اس کا سوال کرتے ہيں۔ اور (اے اللہ!) ہم اس ہوا کے شر سے، اور اس کے اندر موجود شر سے اور جس شر کا اسے حکم دیا گیا ہے اس سے، تیری پناہ مانگتے ہیں)
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ہوا کو گالی دینے یا اس پر لعنت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ کیوں کہ ہوا اپنے خالق کے حکم سے چلتی ہے۔ کبھی رحمت بن کر آتی ہے اور کبھی عذاب بن کر۔ اس کو گالی دینا دراصل اس کے خالق کو گالی دینا اور اس کے فیصلے پر برہمی کا اظہار کرنا ہے۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ہوا کے خالق یعنی اللہ سبحانہ و تعالی کی طرف رجوع کر کے اس سے ہوا کی خیر، ہوا کے اندر موجود چيزوں کی خیر اور ہوا جن چیزوں کے ساتھ بھیجی گئی ہے، جیسے بارش وغیرہ، ان کی خیر طلب کرنے اور اللہ ہی سے اس کے شر، اس کے اندر موجود چيزوں کے شر اور اسے جن چیزوں کے ساتھ بھیجا گیا ہے، جیسے فصلوں اور پیڑوں کا نقصان، مویشیوں کو ہلاک اور گھروں کو منہدم کرنا وغیرہ، ان کے شر سے پناہ مانگنے کی جانب رہنمائی کی ہے۔ دراصل اللہ سے یہ چیزیں مانگنا بھی اس کی بندگی کو بروئے عمل لانا ہے۔
فوائد
- ہوا کو برا کہنے کی ممانعت؛ کیوں کہ ہوا اللہ کے حکم پر چلنے والی ایک مخلوق ہے۔ لہذا اسے گالی دینا دراصل اس کی تخلیق اور تدبیر کرنے والے کو گالی دینا ہے، جوکہ توحید میں خلل کا باعث ہے۔
- الله کی طرف لوٹنا اور اس کی مخلوق کے شر سے پناہ مانگنا۔
- ہوا کبھی تو اللہ کے حکم سے خیر لاتی ہے اور کبھی اسی کے حکم سے شر لاتی ہے۔
- ابن باز کہتے ہيں: ہوا کو گالی دینا گناہ کا کام ہے۔ کیوں کہ ہوا ایک مخلوق ہے جو اللہ کے حکم سے خیر وشر کے ساتھ آتی ہے۔ لہذا اسے گالی دینا جائز نہيں ہے۔ ہوا پر اللہ کی لعنت ہو، اللہ ہوا کو غارت کرے یا اللہ ہوا میں برکت نہ دے وغیرہ کہنا درست نہیں ہے۔ ایک مومن کا طرز عمل اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی رہنمائی کے مطابق ہونا چاہیے۔
- ہوا پر قیاس کرتے ہوئے سردی، گرمی، دھوپ اور غبار وغیرہ اللہ کی ديگر مخلوقات کو بھی گالی دینا جائز نہیں، جو اللہ کے حکم کے تابع ہیں۔
تشریح: العربية
نَهَى صلى الله عليه وسلم عن شَتْم أو لَعْن الريح، فإنها مأمورة من خالقها، تأتي بالرحمة وبالعذاب، وسَبُّها سَبٌّ لله خالقِها، وتَسَخُّط على قضائه، ثم أَرْشَد صلى الله عليه وسلم إلى الرجوع إلى الله خالقها بسؤاله من خيرها وخير ما فيها وخير ما أُرسلت كإتيانها بالمطر ونقل اللِّقَاح ونحوه، والاستعاذة بالله من شرها وشر ما فيها وشر ما أرسلت به كإتلاف النبات والشجر وهلاك الماشية وهدم الأبنية، ونحوه، وفي سؤال الله ذلك تحقيق للعبودية لله.
- النهي عن سب الريح؛ لأنها خَلْقٌ مُدَبَّرٌ، فيَرْجِعُ السَّبُّ إلى خالقها ومُدَبِّرِها، وهو نقص في التوحيد.
- الرجوع إلى الله والاستعاذة به من شر ما خلق.
- الريح تكون مأمورة بالخير، وتكون مأمورة بالشر.
- قال ابن باز: سب الريح من جملة المعاصي؛ لأنها مخلوق مدبر ترسل بالخير والشر؛ فلا يجوز سبُّها، ولا يقال: لعن الله الريح، أو قاتل الله الريح، أو لا بارك الله في هذه الريح، أو ما أشبه ذلك، بل يعمل المؤمن ما أرشد إليه النبي صلى الله عليه وسلم.
- يقاس على الريح في تحريم الشَّتْم والسب ما يتعلق بالحر والبرد والشمس والغبار وغير ذلك مما هو من خَلْق الله وتصريفه.