حدیث

”تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے: اے اللہ! اگر تو چاہے تو میری مغفرت فرما، اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم فرما۔ اسے چاہیے کہ یقین کے ساتھ سوال کرے۔ اس لیے کہ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے کوئی اسے مجبور نہیں کر سکتا"۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَن أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لاَ يَقُلْ أَحَدُكُمْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ، ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ، ارْزُقْنِي إِنْ شِئْتَ، وَليَعْزِمْ مَسْأَلَتَهُ، إِنَّهُ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ، لاَ مُكْرِهَ لَهُ». ولمسلم: «وَلَكِنْ لِيَعْزِمِ الْمَسْأَلَةَ وَلْيُعَظِّمِ الرَّغْبَةَ، فَإِنَّ اللهَ لَا يَتَعَاظَمُهُ شَيْءٌ أَعْطَاهُ».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے: اے اللہ! اگر تو چاہے تو میری مغفرت فرما، اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم فرما۔ اسے چاہیے کہ یقین کے ساتھ سوال کرے۔ اس لیے کہ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے کوئی اسے مجبور نہیں کر سکتا"۔ مسلم کی روایت میں ہے: ”اللہ سے یقین کے ساتھ مانگے اور رغبت کا خوب اظہار کرے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی بھى چیز جسے وہ عطا کرتا ہے بھارى نہیں“۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دعا کو کسی چيز سے، حتی کہ اللہ کی مشیت سے بھی، معلق کرنے سے منع فرمایا ہے۔ کیوں کہ یہ ایک یقینی بات ہے کہ اللہ اسی وقت معاف کرے گا، جب وہ معاف کرنا چاہے۔ مشیت کی شرط رکھنا اس لیے بھی بے معنی ہے کہ مشیت کی شرط اس کے بارے میں رکھی جاتی ہے، جس سے مشیت کے بغیر بھی فعل کا صدور ہو سکتا ہو۔ جیسے جبر و اکراہ کے ساتھ فعل کا صدور۔ لیکن اللہ کی ذات تو اس سے پاک ہے۔ خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی اس حدیث کے اخیر میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کو کوئی مجبور نہيں کر سکتا۔ کوئی بھی چيز دینا اللہ کے لیے دشوار نہيں ہے اور کچھ بھی اس کے بس سے باہر نہیں ہے۔ نیز یہ کہ مشیت سے معلق کر کے مغفرت طلب کرنا ایک طرح سے اللہ کی مغفرت سے استغنا کا اظہار ہے۔ لہذا 'اگر تو دینا چاہے تو دے' کہنا دراصل یہ بتانا ہے کہ اسے یا تو ضرورت نہیں ہے یا پھر سامنے والا بے بس ہے۔ جہاں سامنے والا قادر ہو اور مانگنے والا حاجت مند ہو، وہاں عزم و یقین کے ساتھ مانگا جاتا ہے۔ اس لیے اللہ سے ایسے مانگنا چاہیے، جیسے ایک فقیر وحاجت مند ایک حاجت روا سے اپنی ضرورت مانگ رہا ہو اور اس سے لو لگا رہا ہو کیوں کہ وہ کامل غنی وبے نیاز اور قادر مطلق ہے۔

فوائد

  • دعا کو مشیئت کے ساتھ معلق کرنا منع ہے۔
  • اللہ ان تمام چیزوں سے پاک ہے، جو اس کی شان کے مطابق نہيں ہیں۔ وہ وسیع فضل وکرم کا مالک، کمالِ استغنا کا حامل اور جود وسخا کا مالک ہے۔
  • اللہ کی ذات کامل ومکمل ہے۔
  • اللہ کے پاس موجود چیزوں کی رغبت رکھنے اور اس سے حسن ظن رکھنے کی اہمیت۔
  • کچھ لوگ لاشعوری طور پر بھی دعا کو مشیت سے معلق کر دیتے ہيں۔ جیسے کہہ دیتے ہيں: 'اللہ چاہے تو آپ کو جزائے خیر دے' اور 'اللہ چاہے تو آپ پر رحم کرے'۔ اس طرح کے جملوں کا استعمال درست نہیں ہے اور اس کی دلیل یہی حدیث ہے۔
تشریح: العربية

نَهَى النبيُّ صلى الله عليه وسلم عن تَعْلِيْق الدعاء بشيء حتى لو كان بمشيئة الله؛ فإن ذلك أمر معلوم مُتَيَقَّن أنه لا يغفر إلا أن يشاء سبحانه، ولا معنى لاشتراط المشيئة؛ لأنها إنما تشترط فيمن يصح منه أن يفعل دون أن يشاء بالإكراه وغيره مما تنزه الله سبحانه عنه، وقد بين ذلك صلى الله عليه وسلم في آخر الحديث بقوله فإنه لا مُكْرِه له، كما أن الله لا يَتَعَاظَمُه شيء أعطاه وليس بعاجز ولا يكبُر عليه شيء حتى يقال: إن شئت، وتعليقه بالمشيئة نوع من الاستغناء عن مغفرته، فقول القائل: إن شئت أن تعطيني كذا فافعل، لا يستعمل هذا إلا مع الغنى عنه أو مع العاجز، وأما مع القادر ومع الاضطرار إليه والحاجة إليه فإنه يَعزم مسألته، ويَسأل سؤال فقير مضطر إلى ما سأله، ويلجأ إلى الله؛ لأنه الغني الكامل، القادر على كل شيء.

  • النهي عن تعليق الدعاء بالمشيئة.
  • تنزيه الله عما لا يليق به، وسعة فضله، وكمال غناه، وكرمه وجوده سبحانه وتعالى.
  • إثبات الكمال لله عز وجل.
  • تعظيم الرغبة فيما عند الله وحسن الظن به سبحانه.
  • يقع من بعض الناس تعليق الدعاء بالمشيئة وهم لا يشعرون، مثل قول: جزاك الله خيرًا إن شاء الله، الله يرحمه إن شاء الله، فهذا لا يجوز لحديث الباب.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید