حدیث

’’جسم کے جس حصے میں تکلیف ہو اس پر اپنا ہاتھ رکھو اور تین دفعہ کہو : "بسم اللہ" ’یعنی اللہ کے نام سے۔ اور سات دفعہ کہو : " أَعُوذُ بِاللهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ"۔ یعنی میں اللہ تعالی کى پناہ مانگتا ہوں اور اس کى قدرت کے ذریعہ پناہ طلب کرتا ہوں، اس چیز کے شر سے، جو میں محسوس کرتا ہوں اور جس کا مجھے اندیشہ ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه مسلم

عربی متن

عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيِّ رضي الله عنه أَنَّهُ شَكَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعًا يَجِدُهُ فِي جَسَدِهِ مُنْذُ أَسْلَمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ضَعْ يَدَكَ عَلَى الَّذِي تَأَلَّمَ مِنْ جَسَدِكَ، وَقُلْ بِاسْمِ اللهِ ثَلَاثًا، وَقُلْ سَبْعَ مَرَّاتٍ أَعُوذُ بِاللهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ».

ترجمہ

عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے اپنے جسم کے اندر اسلام قبول کرنے کے وقت سے ہی محسوس ہونے والی ایک تکلیف کی شکایت کی، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ’’جسم کے جس حصے میں تکلیف ہو اس پر اپنا ہاتھ رکھو اور تین دفعہ کہو : "بسم اللہ" ’یعنی اللہ کے نام سے۔ اور سات دفعہ کہو : " أَعُوذُ بِاللهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ"۔ یعنی میں اللہ تعالی کى پناہ مانگتا ہوں اور اس کى قدرت کے ذریعہ پناہ طلب کرتا ہوں، اس چیز کے شر سے، جو میں محسوس کرتا ہوں اور جس کا مجھے اندیشہ ہے۔

تشریح

عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ کو ایک تکلیف تھی، جس سے وہ بے حال تھے۔ لہذا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے اور ایک دعا سکھائی، جس سے اللہ ان کی تکلیف دور کر دے۔ آپ نے انھیں بتایا کہ تکلیف کی جگہ پر اپنی انگلی رکھیں، پھر تین بار بسم اللہ کہیں اور اس کے بعد سات بار یہ دعا پڑھیں : "أَعُوذُ بِاللهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ"۔ یعنی میں اللہ تعالی کى پناہ کا طلب گار ہوں اور اس کی قدرت کے ذریعہ (اس کى) پناہ چاہتا ہوں، اس چیز کے شر سے، جو میں اس وقت محسوس کرتا ہوں اور جس کا غم یا خوف آنے والے وقت میں دامن گیر ہونے کا اندیشہ ہے۔ یا پھر اس بات سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں کہ یہ بیماری آنے والے وقت میں دائمی طور پر رہ جائے اور اس کی تکلیف پورے بدن میں پھیل جائے۔

فوائد

  • انسان كا خود پر دم کرنا مستحب ہے، جیسا کہ حدیث ميں آیا ہے۔
  • جزع فزع یا اعتراض کے بغیر شکایت کرنا توکل اور صبر کے خلاف نہیں ہے۔
  • دعا بھی اسباب اپنانے میں داخل ہے، اسی لیے اس کے الفاظ اور عدد کی پابندی کرنا ضروری ہے۔
  • یہ دعا جسم کی کسی بھی تکلیف کے علاج کے لیے پڑھی جا سکتی ہے۔
  • اس دعا کے ذریعے علاج کرتے وقت ہاتھ کو تکلیف والی جگہ پر رکھنا چاہیے۔
تشریح: العربية

أَصابَ عثمانَ بن أبي العاص رضي الله عنه وَجَعٌ كادَ يُهلكه، فأتاه النبيُّ صلى الله عليه وسلم يَعُودُه، وعَلَّمَه دعاءً يَرْفَع اللهُ عنه ما نَزَل به مِن مَرَض؛ وهو أنْ يَضَعَ يدَه على المكان الذي يَشْتَكي، ويقول: (بسم الله) ثلاث مرات، ثم يقول سَبعَ مرات: (أعوذ) وألتجئ وأعتصم وأَتَحَصَّن (بالله وقدرته من شر ما أجد) مِن أَلَمٍ في الوقت الحاضر (وأُحاذِر) وأخاف حصولَه في المستقبل من الحُزْن والخوف، أو مِنْ أنْ يستمرَّ هذا المرض ويَنْتَشر ألمُه بالجَسَد.

  • استحبابُ رُقْيَةِ الإنسانِ نفسَه كما جاء في الحديث.
  • الشكوى -من غير تَضَجُّرٍ ولا اعتراض- لا تنافي التوكُّلَ والصبر.
  • الدعاء من جُملةِ تَعاطِي الأسباب، ولذا ينبغي التَّقيُّدَ بألفاظِهِ وأعدادِه.
  • هذا الدعاء يكونُ لكلِّ أَلَمٍ عُضْوُيٍّ.
  • وضع اليد على موضع الألم عند الرقية بهذا الدعاء.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید