حدیث

”وہ شرط پوری کی جانے کی سب سے زیادہ مستحق ہے، جس کے ذریعہ تم نے عورتوں کی شرم گاہوں کو حلال کیا “۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عن عقبة بن عامر رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أَحَقُّ الشُّرُوطِ أَنْ تُوفُوا بِهِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ».

ترجمہ

عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”وہ شرط پوری کی جانے کی سب سے زیادہ مستحق ہے، جس کے ذریعہ تم نے عورتوں کی شرم گاہوں کو حلال کیا “۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ پورا کیے جانے کی سب سے زیادہ حق دار شرط وہ شرط ہے، جو عورت کی شرم گاہ کو حلال کرنے کا سبب ہو۔ اس سے مراد وہ جائز شرطیں ہيں، جو نکاح کے وقت بیوی رکھتی ہے۔

فوائد

  • نکاح کے وقت شوہر بیوی میں سے کوئی جو شرطیں رکھے، ان کو پورا کرنا واجب ہے۔ ہاں! اگر وہ شرط کسی حلال کو حرام یا کسی حرام کو حلال ٹھہراتی ہو، تو اس کا پورا کرنا واجب نہيں ہوگا۔
  • نکاح کی شرطوں کو پورا کرنا دیگر شرطوں کو پورا کرنے کے مقابلے میں زیادہ ضروری ہے، کیوں کہ ان کے ذریعے شرم گاہوں کو حلال کیا جاتا ہے۔
  • اسلام میں شادی کی اہمیت کہ اس نے شادی کی شرطوں کو پورا کرنے کی تاکید کی ہے۔
تشریح: العربية

يُبَيِّنُ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنَّ أولى الشروط بالوفاء هو ما كان سببًا في حِلِّ التَّمَتُّعِ بالمرأة، وهي الشروط المباحة التي تطلبها الزوجة في عقد النكاح.

  • وجوب الوفاء بالشروط التي التزم بها أحد الزوجين للآخر، إلا شرطًا حَرَّمَ حلالًا أو أَحَلَّ حرامًا.
  • الوفاء بشروط النكاح آكَدُ من غيرها؛ لأنها في مُقابل استحلال الفروج.
  • عظم مكانة الزواج في الإسلام، حيث أَكَّدَ على الوفاء بشروطه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید