ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أنس بن مالك رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أعتق صفية، وجعل عِتْقَهَا صَدَاقَهَا.
ترجمہ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صفیّہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کرکے ان کی آزادی کو ان کا مہر بنا دیا۔
تشریح
صفیہ بنت حُيی کے والد بنو نضیر کے سردار تھے۔ ان کی بیٹی صفیّۃ كنانة بن ابی حقيق کی بیوی تھیں۔ ان کا شوہر خیبر کی لڑائی میں مارا گیا اور آپ ﷺ نے خیبر کو فتح کر لیا۔ عورتیں اور بچے مسلمانوں کے غلام بن گئے۔ ان میں صفیۃ بھی تھیں۔ وہ دِحیہ بن خلیفہ الكلبي رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئیں۔ آپ ﷺ نے انھیں صفیہ کے بدلے میں دوسری باندی دے دی اور ان (صفیہ) کی دل دہی نیز شوہر کے انتقال پر شفقت کا برتاؤ کرتے ہوئے انھیں اپنے لیے چن لیا۔ آپ ﷺ کی شرافت و احسان مندی تھی کہ آپ نے انھیں ایک حقیر باندی کی حیثیت سے فائدہ نہیں اٹھایا؛ بلکہ غلامی کی ذلت سے بچایا۔ عزت افزائی کی اور امہات المؤمنین میں شامل کر لیا۔ اس لیے کہ آپ نے انہیں آزاد کرکے ان سے شادی کی اور آزادی ہی کو ان کا مہر بنایا۔
تشریح: العربية
كانت صفية بنت حُيي -وهو أحد زعماء بنى النضير- زوجة كنانة بن أبي الحقيق، فقتل يوم خيبر، وفتح النبي صلى الله عليه وسلم خيبر، وصار النساء والصبيان أرقاء للمسلمين، ومنهم صفية، ووقعت في نصيب دِحْيةَ بن خليفة الكلبي رضي الله عنه ، فعوضه عنها غيرها واصطفاها لنفسه، جبراً لخاطرها، ورحمة بها لعزها الذاهب. ومن كرمه إنه لم يكتف بالتمتع بها أمة ذليلة، بل رفع شأنها، بإنقاذها من ذُل الرقِّ، وجعلها إحدى أمهات المؤمنين، لأنه أعتقها، وتزوجها، وجعل عتقها صداقها.
- جواز عتق الرجل أمته، وجعل عتقها صداقاً لها، و تكون زوجته.
- أنه لا يشترط لذلك إذنها ولا شهود، ولا ولي، كما لا يشترط التقيد بلفظ الإنكاح، ولا التزويج.
- فيه دليل على جواز كون الصداق منفعة دينية أو دنيوية.
- استحباب عتق الأمة وتزوجها ، وقد صرح بذلك حديث: "من أعتق جاريته ثم تزوجها كان له أجران"رواه أبوداود وصححه الألباني.
- في مثل هذه القصة في زواج النبي -صلى الله عليه وسلم- ما يدل على كمال رأفته وشفقته.
- لم يجعل الشرع حدا لأكثر الصداق ولا لأقله، إلا أنه يستحب تخفيفه لقوله -صلى الله عليه وسلم-: "أعظم النساء بركة، أيسرهن مؤنة".