حدیث

رسول اللہ ﷺ نے خیبر والوں سے کھجور اور غلہ کی نصف پیداوار کے بدلے (بٹائی کا) معاملہ کیا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عبدالله بن عمر رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وسلم عامل أهل خيبر بِشَطْرِ ما يخرج منها من ثَمَرٍ أو زرع.

ترجمہ

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر والوں سے کھجور اور غلہ کی نصف پیداوار کے بدلے (بٹائی کا) معاملہ کیا۔

تشریح

خیبر کا شہر کاشتکاری کا شہر تھا، کچھ یہودی اس میں آباد تھے۔ جب آپ ﷺ نے سن سات (7) ہجری میں خیبر کو فتح کیا اور اس کی زمینیں اور کھیتیاں غنیمت حاصل کرنے والوں کے درمیان تقسیم کردیں، مسلمان کھیتی باڑی اور زراعت کے بجائے اللہ کے راستے میں جہاد اور دعوت وتبلیغ میں مصروف تھے اور خیبر کے یہودی ایک طویل عرصے سے مشقت اٹھانے اور تجربے کی وجہ سے زراعت کے کاموں کو زیادہ بہتر جانتے تھے۔ اسی وجہ سے آپ ﷺ نے خیبر کے گزشتہ مالکوں کو اسی زراعت اور درختوں کی دیکھ بال پر قائم رکھا، اس شرط پر کہ وہ اپنے کام کے عوض آدھے پھل اور کھیتی کی پیداوار میں سے آدھی پیداوار لیں گے اور دوسرا نصف حصہ اصل مالک ہونے کی حیثیت سے مسلمانوں کو دیں گے۔

تشریح: العربية

بلدة خيبر بلدة زراعية، كان يسكنها طائفة من اليهود. فلما فتحها النبي صلى الله عليه وسلم في السنة السابعة من الهجرة، وقسم أراضيها ومزارعها بين الغانمين، وكانوا مشتغلين عن الحراثة والزراعة بالجهاد في سبيل الله والدعوة إلى الله تعالى ، وكان يهود "خيبر" أبصر منهم بأمور الفلاحة أيضاً، لطول معاناتهم وخبرتهم فيها، لهذا أقر النبي صلى الله عليه وسلم أهلها السابقين على زراعة الأرض وسقْي الشجر، ويكون لهم النصف، مما يخرج من ثمرها وزرعها، مقابل عملهم، وللمسلمين النصف الآخر، لكونهم أصحاب الأصل.

  • جواز المزارعة والمساقاة، بجزء مشاع مما يخرج من الزرع الثمر، والمزارعة أن يتعاقد صاحب الأرض مع رجل يزرعها له، مقابل نصف الحصاد أو ربعه أو النسبة التي يتفقان عليها، والمساقاة أن يتعاقد صاحب الأرض مع رجل يسقيها له، مقابل نصف الحصاد أو ربعه أو النسبة التي يتفقان عليها.
  • ظاهر الحديث، أنه لا يشترط أن يكون البذر من رب الأرض.
  • أنه إذا عُلِمَ نصيب العامل، أغنى عن ذكر نصيب صاحب الأرض أو الشجر، لأنه بينهما.
  • جواز الجمع بين المساقاة والمزارعة في بستان واحد، بأن يساقيه على الشجر، بجزء معلوم وزراعة الأرض بجزء معلوم.
  • جواز معاملة الكفار بالفلاحة، والتجارة، والمقاولات على البناء والصنائع، ونحو ذلك من أنواع المعاملات.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید