حدیث

ایک شخص نے نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگایا اور اس کے بچہ کو اپنا بچہ ماننے سے انکار کر دیا تو نبی کریم ﷺ نے دونوں کو حکم دیا تو ان دونوں نے لعان کیا، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا۔ پھر آپ ﷺ نے بیٹے کا فیصلہ عورت کے حق میں کیا اور دونوں لعان کرنے والوں کے درمیان علیحدگی کرا دی۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنها : أن رجلا اتهم امرأته بالزنا، ونفى كون ولدها منه في زمن رسول الله صلى الله عليه وسلم فأمرهما رسول الله صلى الله عليه وسلم فتلاعنا، كما قال الله تعالى، ثم قضى بالولد للمرأة، وفرق بين المتلاعنين

ترجمہ

عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگایا اور اس کے بچہ کو اپنا بچہ ماننے سے انکار کر دیا تو نبی کریم ﷺ نے دونوں کو حکم دیا تو ان دونوں نے لعان کیا، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا۔ پھر آپ ﷺ نے بیٹے کا فیصلہ عورت کے حق میں کیا اور دونوں لعان کرنے والوں کے درمیان علیحدگی کرا دی۔

تشریح

اس حدیث میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائی اور اس کے بچے کے نسب کا انکار کیا اور اس سے براءت ظاہر کی، عورت نے اس کے دعوے میں اس کی تکذیب کی اور زنا کا اقرار نہیں کیا۔ دونوں نے لعان کیا یعنی شوہر نے اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر چار مرتبہ یہ کہا کہ وہ اس تہمت لگانے میں سچا ہے اور پانچویں دفعہ اپنے اوپر لعنت کی۔ پھر بیوی نے اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر چار مرتبہ کہا کہ شوہر جھوٹا ہے اور پانچویں دفعہ اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کے غصے کا دعویٰ کیا۔ جب ان کے درمیان لعان پوری ہوگئی، تو اللہ کے نبی ﷺ نے ان کے درمیان ہمیشہ کے لیے جدائی کرا دی اور بچے کا نسب عورت سے ثابت کرتے ہوئے اس کے تابع بنایا اور مرد سے نسب ختم کر دیا۔

تشریح: العربية

في هذا الحديث يروي عبد الله بن عمر -رَضيَ الله عنهما-: أن رجلًا قذف زوجته بالزنا، وانتفى من ولدها، وبرئ منه فكذبته في دعواه ولم تُقِرَّ على نفسها. فتلاعنا، بأن شهد الزوج بالله تعالى أربع مرات أنه صادق في قذفها، ولعن نفسه في الخامسة. ثم شهدت الزوجة بالله أربع مرات أنه كاذب، ودعت على نفسها بالغضب في الخامسة. فلما تمَّ اللعان بينهما، فرق بينهما النبي صلى الله عليه وسلم فرقة دائمة، وجعل الولد تابعا للمرأة، منتسبا إليها، منقطعا عن الرجل، غير منسوب إليه.

  • إذا تم اللعان، انتفى الولد عن أبيه، وصار منسوبا إلى أمه فقط.
  • الفرقة المؤبدة الدائمة بين المتلاعنين، فلا تحل له بعد تمام اللعان بحال من الأحوال.
  • الأصل أن الولد للفراش، فإذا تحقق الزوج أن الولد من غيره، كأن يكون بعيدا عن امرأته مدة طويلة: فيجب عليه نفيه، واللعان عليه، إن كذبته. لئلا يلحقه نسبه، فيفضي إلى أمور منكرة، حيث يستحل من الإرث ولحوق النسب، والاختلاط بالمحارم، وغير ذلك، وهو أجنبي عنهم.
  • الأحسن في رعاية النساء التوسط، فلا يكثر الرجل من الوساوس التي لم تبن على قرائن، ولا يحجبها عما هو متعارف ومألوف بين الناس المحافظين مادام لم ير ريبة، ولا يتركها مهملة، تذهب حين شاءت، وتكلم من شاءت، فهذا هو التفريط.
  • أنه لا يشترط في نفي الحمل تصريح الرجل بأنها ولدت من زنا ولا أنه استبرأها بحيضة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید