حدیث

اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے خیبر میں ایسی زمین ملی ہے کہ اس جیسا مال مجھے کبھی نہیں ملا اور میرے نزدیک وہ سب سے محبوب چیز ہے۔ آپ مجھے اس بارے میں کیا حکم دیتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم چاہو تو اصل زمین اپنے پاس روک رکھو اور اس کی پیداوار صدقہ کردو۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال: «قد أصاب عمر أرضًا بخيبر. فأتى النبي صلى الله عليه وسلم يستأمره فيها. فقال: يا رسول الله، إني أصبت أرضًا بخيبر، لم أُصِبْ مالًا قَطُّ هو أنفس عندي منه، فما تأمرني به؟ فقال: إن شِئْتَ حَبَّسْتَ أصلها، وتصدقت بها. قال: فتصدق بها، غير أنه لا يُباع أصلها، ولا يوهب، ولا يورث. قال: فتصدق عمر في الفقراء، وفي القربى، وفي الرقاب، وفي سبيل الله، وابن السبيل، والضيف. لا جناح على من وليها أن يأكل منها بالمعروف، أو يطعم صديقًا، غير مُتَمَوِّلٍ فيه»، وفي لفظ: «غير مُتَأثِّلٍ».

ترجمہ

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خیبر میں زمین ملی تو وہ نبی ﷺ کے پاس اس کے بارے میں مشورہ کرنے کے لیے حاضر ہوئے اورعرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے خیبر میں ایسی زمین ملی ہے کہ اس جیسا مال مجھے کبھی نہیں ملا اور میرے نزدیک وہ سب سے محبوب چیز ہے۔آپ ﷺ مجھے اس بارے میں کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اگر تم چاہو تو اصل زمین اپنے پاس روک رکھو اور اس کی پیداوار صدقہ کردو‘‘ ۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے اس شرط پر وقف کیا کہ اس کی ملکیت نہ فروخت کی جائے نہ خریدی جائے اور نہ میراث بنے اور نہ ہبہ کی جائے۔ فرماتے ہیں کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے فقرا اور رشتہ داروں اور غلام آزاد کرنے میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافروں میں، مہمانوں میں صدقہ کردیا اور جو اس کا منتظم ہو وہ اس میں سے نیکی کے ساتھ (جائز بھر) کھائے یا اپنے دوستوں کو کھلائے تو کوئی حرج نہیں ، لیکن اس سے مال جمع نہ کرے۔ اور ایک دوسرے لفظ میں (غیر متاثل) ہے۔

تشریح

عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں زمین ملی، اس کی مقدار سو سہم (حصے) تھی۔ یہ آپ کے مال میں سے سب سے مہنگا مال تھا، اس لیے کہ یہ بہت عمدہ زمین تھی۔ عمر رضی اللہ عنہ نیکیوں میں آگے بڑھتے تھے۔ قرآن کریم کی آیت {لَنْ تَنَالوا البِرً حَتًى تُنْفِقُوا مِمًا تُحِبونَ } کے پیشِ نظر نیکی کی لالچ کرتے ہوئے آپ ﷺ کے پاس آئے تاکہ اس کو اللہ کی رضا کے لیے صدقہ کرنے کے بارے میں مشورہ کریں۔ آپ ﷺ نے صدقہ کرنے کا سب سے اچھا مشورہ دیا یعنی اصل زمین کو پاس رکھ کر اس کی پیداوار کو صدقہ کردو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا، وہ زمین وقف ہوگئی، اس کو نہ بیچا جا سکتا تھا، نہ ہدیہ کیا جاسکتا تھا اور نہ ہی اس میں وراثت یا کوئی اور ایسا تصرف ہو سکتا تھا جس کی وجہ سے اس کی ملکیت کسی اور کی طرف منتقل ہو یا انتقالِ ملکیت کا سبب بنے۔ اس کو فقیروں و مسکینوں، عزیز و اقارب، غلام کو چھڑانے، جن پر دیت واجب ہو ان کی طرف سے دیت کی ادائیگی کے لیے، اللہ کے دین کی مدد اور دین کی سربلندی کے لیے لڑنے والے مجاہدین کے تعاون کے لیے، وہ مسافر جو اپنے شہر سے دور ہو اور اس کا زادِ راہ ختم ہو گیا ہو نیز مہمانوں کو کھلانے کے لیے وقف کردیا۔ مہمان کا اکرام کرنا اللہ تعالیٰ پر ایمان کا حصہ ہے۔ یہ ضروت مند کی ضرورت کو بھی پورا کرتا ہے اور نیکی اور بھلائی کے کام کی نگرانی بھی ہے اور ساتھ ساتھ مالکِ زمین سے حرج اور گناہ کو دور کرنا ہے کہ وہ اچھے طریقے سے خود بھی اپنی ضرورت کے مطابق اس سے کھا سکتا ہے اور اس دوست کو بھی کھلا سکتا ہے جس کے پاس ضرورت سے زیادہ مال نہ ہو۔ یہ خیر اور احسان کے راستے میں مال کا خرچ کرنا ہے۔ نہ کہ مال جمع کرکے مالدار ہونا مقصود ہو۔ تنبیہ: وقف یہ ہے کہ مسلمان اپنے مال کو صدقہ کر کے اس کی پیداوار کو بھلائی کے جس کام میں چاہے استعمال کرسکتا ہے، پیداوار کو اسی مصرف میں خرچ کرکے اصل مال کو باقی رکھا جائے گا۔ اس کی مثال یہ ہے کھیتی فقراء پر وقف کردے، تو پھل اور پیدا ہونے والی فصل فقراء کو دے دی جائے گی اور کھیتی ان کے پاس باقی رہے گی۔

تشریح: العربية

أصاب عمر بن الخطاب رضى الله عنه أرضا بخيبر، قدرها مائة سهم، هي أغلى أمواله عنده، لطيبها وجودتها: وقد كانوا- رضى الله عنهم- يتسابقون إلى الباقيات الصالحات، فجاء رضي اللَه عنه إلى النبي صلى الله عليه وسلم طمعا في البر المذكور في قوله تعالى: {لَنْ تَنَالوا البِرً حَتًى تُنْفِقُوا مِمًا تُحِبونَ} يستشيره في صفة الصدقة بها لوجه الله تعالى. فأشار عليه بأحسن طرق الصدقات، وذلك بأن يحبس أصلها ويقفه، ففعل عمر ذلك وصارت وقفا فلا يتصرف به ببيع، أو إهداء، أو إرث أو غير ذلك من أنواع التصرفات، التي من شأنها أن تنقل الملك ، أو تكون سببا في نقله، ويصدق بها في الفقراء والمساكين، وفي الأقارب والأرحام، وأن يَفُك منها الرقاب بالعتق من الرق، أو بتسليم الديات عن المستوجبين، وأن يساعد بها المجاهدين في سبيل الله لإعلاء كلمته ونصر دينه، وأن يطعم المسافر الذي انقطعت به نفقته في غير بلده، ويطعم منها الضيف أيضا، فإكرام الضيف من الإيمان بالله تعالى. بما أنها في حاجة إلى من يقوم عليها ويتعاهدها بالري والإصلاح، مع رفع الحرج والإثم عمن وليها أن يأكل منها بالمعروف، فيأكل ما يحتاجه، ويطعم منها صديقا غير متخذ منها مالا زائدا عن حاجته، فهي لم تجعل إلا للإنفاق في طرق الخير والإحسان، لا للتمول والثراء. تنبيه: الوقف أن يتصدق المسلم بمال له عائد على جهة من جهات الخير، فيُصرف العائد على تلك الجهة ويبقى أصل المال، مثاله أن يقف مزرعة على الفقراء، فالثمار والزروع التي تنتجها هذه المزرعة تعطى للفقراء وتبقى المزرعة محبوسة.

  • يؤخذ من قوله: "إن شئت حبست أصلها وتصدقت بها" معنى الوقف الذي هو تحبيس الأصل وتسبيل المنفعة.
  • يفيد أيضاً أنه لا يجوز نقل الملك في الوقف ، ولا التصرف الذي يسبب نقل الملك، ويبقى حسب شرط الواقف له.
  • مكان الوقف، وأنه العين التي تبقى بعد الانتفاع بها، فأما ما يذهب بالانتفاع به، فهو صدقة، وليس له موضوع الوقف ولا حكمه.
  • مصرف الوقف الشرعي يكون في وجوه البر والإحسان العام أو الخاص، كقرابة الإنسان. وفك الرقاب، والجهاد في سبيل الله، والضيف، والفقراء، والمساكين وبناء المدارس والملاجئ والمستشفيات ونحو ذلك.
  • يؤخذ من الحديث صحة شرط الواقف الشروط التي لا تنافي عقد الوقف وهدفه، والتي ليس فيها إثم ولا ظلم.
  • يفيد الحديث جواز أكل ناظر الوقف منه بالمعروف بحيث يأكل قدر كفايته وحاجته.
  • فيه فضيلة الوقف، وأنه من الصدقات الجارية والإحسان المستمر.
  • أن الأفضل أن يكون الوقف من أطيب المال وأحسنه؛ طمعاً في فضل الله وإحسانه الذي جعله للذين ينفقون مما يحبون.
  • مشاورة ذوي الفضل، وهم أهل الدين والعلم، وأهل الخبرة في كل باب يحسنونه.
  • أن الواجب على المستشار أن ينصح بما يراه الأفضل والأحسن، فالدين النصيحة.
  • فضيلة الإحسان والبر بذوي الأرحام، فإن الصدقة عليهم، صدقة وصلة.
  • يؤخذ من الحديث أن الشروط في الوقف لابد أن تكون صحيحة على وفق أحكام الشرع ؛ فلا تكون مما يخالف مقتضى الوقف من البر والإحسان، ومن العدل والبعد عن الجور والظلم.
  • ما كان عليه أكابر السلف من إخراج أنفس الأموال عندهم لله تعالى.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید