حدیث

جب تم میں سے کوئی شخص بستر پر ليٹنے كا اراده كرے تو پہلے اپنا بستر اپنی ازار کے اندرونی کنارے سے جھاڑ لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے پیچھے (اس کی بے خبری میں) کیا چیز اس پر آ گئی ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: «إذا أوى أحدكم إلى فراشه فَليَنْفُضْ فِرَاشَهُ بِدَاخِلَةِ إزَارِهِ فإنَّهُ لا يدري ما خلفه عليه، ثم يقول: باسمك ربي وضعت جنبي، وبك أرفعه، إن أمسكت نفسي فارحمها، وإن أرسلتها، فاحفظها بما تحفظ به عبادك الصالحين».

ترجمہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص بستر پر ليٹنے كا اراده كرے تو پہلے اپنا بستر اپنی ازار کے اندورنی کنارے سے جھاڑ لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے پیچھے (اس کی بے خبري میں) کیا چیز اس پر آ گئی ہے۔ پھر یہ دعا پڑھے: ”بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي وَبِكَ أَرْفَعُهُ، إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ“ اے میرے پالنے والے! تیرے نام سے میں نے اپنا پہلو رکھا ہے اور تیرے ہی نام سے اٹھاؤں گا۔ اگر تو نے میری جان کو روک لیا تو اس پر رحم کرنا اور اگر چھوڑ دیا (زندگی باقی رکھی) تو اس کی اس طرح حفاظت کرنا جس طرح تو صالحین کی حفاظت کرتا ہے۔

تشریح

اس حدیث میں سوتے وقت کے اذکار کا بیان ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب انسان اپنی روح کو اپنے رب کے حوالے کر دیتا ہے جب کہ اس کے بس میں اس سلسلے میں کوئی طاقت و قوت نہیں رہتی۔ پس وہ اسے اس کے خالق کے سپرد کر دیتا ہے کہ وہی اس کی حفاظت کرے۔چنانچہ وہ پورے طور پر اسے اللہ کے حوالے کر دیتا ہے۔ علماء کہتے ہیں کہ سونے اور جاگنے کے اوقات میں ذکر اور دعا کرنے کی حکمت یہ ہے کہ انسان کے اعمال کا خاتمہ بھی اطاعت کے ساتھ ہو اور ان کا آغاز بھی اطاعت ہی کے ساتھ ہو۔ اس حدیث شریف میں نبی ﷺ اس بات کی وضاحت فرما رہے ہیں جس کا کرنا اور کہنا سوتے وقت بندے کے لیے مسنون ہے۔ نبی ﷺ نے عملی پہلو کی طرف ہماری رہنمائی کرتے ہوئے فرمایا کہ ”تم میں سے جب کوئی شخص سونے کے ارادے سے اپنے بستر پر جائے تو اسے جھاڑ لے“۔ آپ ﷺ نے ایسا اس لیے فرمایا کیوں کہ عرب لوگ بستر کو اسی حالت میں بچھا ہوا چھوڑ دیا کرتے تھے۔ چنانچہ احتمال ہے کہ آدمی کے بستر کو چھوڑ جانے کے بعد اس میں موذی حشرات الارض گھس جائیں یا پھر وہ گرد و غبار وغیرہ سے آلودہ ہو جائے۔ اس لیے نبی ﷺ نے سونے سے قبل بستر کو جھاڑ لینے کا حکم دیا۔ پھر آپ ﷺ نے اس شے کی وضاحت فرمائی جس کے ساتھ جھاڑا اور صاف کیا جائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اپنی ازار کے اندرونی حصے سے اپنے بستر کو جھاڑ لے“۔ ازار سے مراد وہ کپڑا ہے جو بدن کے نچلے حصے میں پہنا جاتا ہے۔ مراد یہ کہ کپڑے کی اندرونی کنارے کی جانب سے وہ صاف کر لے کیونکہ اس سے جھاڑنا آسان ہوتا ہے۔ اور اس میں یہ بھی حکمت ہے کہ ازار کے بیرونی حصے پر گندگی وغیرہ نہ لگے اور یہ کہ ایسا کرنے میں زیادہ ستر پوشی ہے۔ عام طور پر عرب کے پاس ان کے اپنے جسم پر موجود ازار اور چادر کے علاوہ کوئی اور کپڑا نہیں ہوا کرتا تھا، بہر حال اہم یہ ہے کہ بستر کو جھاڑ لیا جائے پھر چاہے یہ اپنے جسم پر موجود کپڑے کے ذریعہ ہو یہ پھر کسی اور کپڑے یا کسی اور چیز کے ذریعہ جس کو بستر جھاڑنے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ پھر آپ ﷺ بستر کو جھاڑنے اور اُس کی صفائی کی علت بیان کر رہے ہیں کہ ”اسے نہیں معلوم کہ اس کے بعد اس بستر پر کون آیا رہا“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت جسمانی حفاظت پر بھی زور دیتی ہے کیونکہ جسمانی سلامتی ہی سے دینی امور کی تکمیل ہوتی ہے۔ یہاں تک تو عملی سنت اور اس کی علت کا بیان تھا۔ ثانیا: قولی سنت: پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر وہ سونے والا کہے ”بِاسْمِكَ رَبِّي“ یعنی اللہ کے نام کے ساتھ جو بلند و برتر اور عظیم ہے، میں یہ ناتواں جسم بستر پر رکھتا ہوں۔ اس میں اس بات کے استحباب کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کو ہر وقت ہمیشہ اللہ کے ذکر میں مشغول رہنا چاہئے۔پھر کہے:" وضعت جنبي وبك أرفعه"۔ یعنی میں تیرے ذکر کے ساتھ اس جسم کو رکھتا اور اٹھاتا ہوں۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ (یوں کہے) ”إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا“ اس سے یہاں کنایۃً موت مراد ہے۔ اسی طرح آپ ﷺ کا فرمان کہ ”وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا“ سے کنایۃً زندگی مراد ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ”فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ“ یعنی میری جان و روح کی ویسے ہی حفاظت کرنا جیسے تو اپنے بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔ اس سے تمام گناہوں، ہلاکت میں ڈالنے والی اور تمام بری اشیاء سے عمومی طور پر حفاظت مراد ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اللہ (کے اوامر و نواہی) کی حفاظت کرتے رہو وہ تمہاری حفاظت کرے گا۔ یہ عمومی حفاظت ہے۔ اسی لیے اسے نیکو کار لوگوں کے ساتھ خاص کیا۔ اللہ تعالی کی حفاظت نیکی ہی کے ساتھ حاصل ہوا کرتی ہے۔ اس شخص کو اللہ تعالی کی اپنے اولیاء کو دی جانے والی خصوصی حفاظت میں سے کوئی حصہ نہیں ملتا جو اللہ تعالی کے حقوق میں تفریط سے کام لیتا ہے اور انہیں ضائع کرتا ہے۔ تاہم عمومی حفاظت اسے بھی حاصل رہتی ہے۔

تشریح: العربية

يدور معنى هذا الحديث حول بيان أذكار النوم، وهي اللحظة التي يسلم الإنسان فيها روحه لربه في لحظة لا يملك فيها حولا ولا قوة، فيتركها في يد خالقها يحفظها ، ويردها مع تمام التفويض لله تعالى. قال أهل العلم: وحكمة الذكر والدعاء عند النوم واليقظة أن تكون خاتمة أعماله على الطاعة، وأول أفعاله على الطاعة. وفي هذا الحديث المبارك يبين لنا النبي صلى الله عليه وسلم ما يسن على العبد فعله وقوله عند النوم، فأرشدنا النبي صلى لله عليه سلم إلى الجانب الفعلي، فقال: «إذا أوى أحدكم إلى فراشه فَليَنْفُضْ" وهذا لأن العرب كانوا يتركون الفراش بحاله، فلربما دخل الفراش بعد مغادرة العبد له بعض الحشرات المؤذية، أو تلوث بالغبار ونحوه، فأمر النبي صلى الله عليه سلم بنفض الفراش قبل النوم، ثم بين النبي صلى الله عليه وسلم آلة النفض والتنظيف فقال: "فلينفض فِرَاشَهُ بِدَاخِلَةِ إزَارِهِ" والإزار: هو ما يلبس على أسفل البدن، والمقصود أي: بطرف الثياب الداخلي، لأنه أسهل للنفض، وحتى لا يصيب ظاهر الإزار شيء من القذر ونحوه، كما انه أستر للعورة، والغالب على العرب أنه لم يكن لهم ثوب غير ما هو عليهم من إزار ورداء، فالمهم هو نفض الفراش سواء كان النفض بملابس متصلة (يرتديها الشخص) أم منفصلة (لا يرتديها)، أو بما ينفض به الفراش غير ذلك. ثم يبين النبي صلى الله عليه وسلم العلة من هذا النفض والتنظيف: "فإنَّهُ لا يدري ما خلفه عليه" وهذا يدل على حرص الشريعة على سلامة الأبدان، لأن بالأبدان قوام الأديان، وهكذا انتهت هنا السنة الفعلية مع بيان علتها. ثانيا: السنة القولية. ثم قال النبي صلى الله عليه وسلم: "ثم يقول: باسمك ربي" أي: باسم الله العلي العظيم أضع هذا الجسد الهامد على الفراش، وهذا يدل على استحباب مداومة الإنسان لذكر ربه في كل وقت، ثم يقول: "وضعت جنبي وبك أرفعه" أي: أني لا أضع هذا الجسد ولا أرفعه إلا مستصحبا فيها ذكرك. ثم قال صلى الله عليه وسلم : "إن أمسكت نفسي فارحمها" كناية عن الموت. قوله صلى الله عليه وسلم: "وإن أرسلتها" كناية عن الحياة. وقوله صلى الله عليه وسلم: "فاحفظها بما تحفظ به عبادك الصالحين" أي أن تحفظ نفسي وروحي بما تحفظ به عبادك، وهو حفظ عام من سائر الآثام والموبقات والشرور ، كقوله صلى الله عليه وسلم: "احفظ الله يحفظك" فهذا حفظ عام ولذا خصه بالصالحين فإن حفظ الرب تعالى لا ينال إلا بالصلاح، فليس للمفرط والمضيع حظ من حفظ الله الحفظ الخاص الذي يوليه الله تعالى لأوليائه، ولكن قد يناله شيء من الحفظ العام.

  • يستحب نفض الفراش قبل الدخول فيه ، لكيلا يكون دخل فيه شيء من المؤذيات وهو لا يشعر، ولتنظيفه مما وقع عليه من تراب أو أقذار.
  • حياة العبد ينبغي أن تكون مرتبطة بمنهج الله وأعماله قائمة على اسم الله -تعالى-.
  • التوفيق ألا يكلك الله طرفة عين، وأن يحفظك بحفظه ويرعاك برحمته، والخذلان أن يكلك الله إلى نفسك.
  • مَن حفظ الله حفظه الله، فالله يحفظ عباده الصالحين في أنفسهم وأموالهم وأهليهم وأبنائهم ، فاللهم احفظنا بما تحفظ به عبادك الصالحين.
  • الحث على الدعاء الوارد في هذا الحديث؛ لأن فيه التفويض التام لله والحصول على الهدوء النفسي والطمأنينة الفكرية مما قدر له.
  • الحديث يحث على نفض الفراش بغض النظر عن آلة النفض وإنما ذكر النبي صلى الله عليه وسلم الإزار؛ لأن الغالب على العرب أنه لم يكن لهم ثوب غير ما هو عليهم من إزار ورداء، فالمهم هو نفض الفراش سواء كان النفض بملابس متصلة (يرتديها الشخص) أم منفصلة (لا يرتديها)، أو بما ينفض به الفراش من آلات حديثه.
  • الحكمة من الأذكار والدعاء عند النوم واليقظة أن تكون خاتمة أعمال المسلم على الطاعة وأول أفعاله على الطاعة.
  • هذه من آداب النوم، ومن حكمة الله عز وجل ورحمته أنك لا تكاد تجد فعلا للإنسان إلا وجدته مقرونا بذكر، فاللباس له ذكر، الأكل له ذكر، الشرب له ذكر، وذلك من أجل ألا يغفل الإنسان عن ذكر الله يكون ذكر الله على قلبه دائما وعلى لسانه دائما وهذه من نعمة الله -تعالى-.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید