حدیث

میں نے تمہاری شادی اس عورت سے ان سورتوں کے بدلے کر دی جو تمہیں یاد ہے

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن سهل بن سعد الساعدي رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم جاءته امرأة فقالت: إني وَهَبْتُ نفسي لك: فقامت طويلا، فقال رجل: يا رسول الله، زَوِّجْنِيهَا، إن لم يكن لك بها حاجة. فقال: هل عندك من شيء تُصْدِقُهَا؟ فقال: ما عندي إلا إِزَارِي هذا. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إِزَارُكَ إن أَعْطَيْتَهَا جلست ولا إِزَارَ لك، فالْتَمِسْ شيئا قال: ما أجد. قال: الْتَمِسْ ولو خَاتَمًا من حَدِيدٍ. فالْتَمَسَ فلم يجد شيئا. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم هل معك شيء من القرآن؟ قال: نعم. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : زَوَّجْتُكَهَا بما معك من القرآن».

ترجمہ

سہل بن سعد ساعدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک عورت نے آکر عرض کیا کہ میں نے اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کر دیا۔ پھر وہ کافی دیر کھڑی رہی (اور آپ ﷺ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا) تو ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ کو اس کی حاجت نہ ہو تو اس سے میری شادی کر دیجئیے۔ آپ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس مہر ادا کرنے کے لیے کوئی چیز ہے؟، اس نے عرض کیا: میرے پاس میرے اس تہبند کے سوا کچھ نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تم اپنا تہبند اسے دے دو گے تو تم بغیر تہبند کے رہ جاؤ گے، لہذا تم کوئی اور چیز تلاش کرو، اس نے عرض کیا: میں کوئی چیز نہیں پا رہا ہوں۔ آپ نے (پھر) فرمایا: تم تلاش کرو، بھلے لوہے کی ایک انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو۔ چناں چہ اس نے تلاش کیا لیکن اسے کوئی چیز نہیں ملی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہیں کچھ قرآن یاد ہے؟، اس نے کہا: جی ہاں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہاری شادی اس عورت سے ان سورتوں کے بدلے کر دی جو تمہیں یاد ہے۔

تشریح

کچھ احکام نبی ﷺ کے ساتھ مخصوص ہیں جو دوسروں کے لئے جائز نہیں: انہیں میں سے آپ ﷺ کا نکاح کرنا بغیر کسی مہر کے اس عورت سے جو خود سے اپنے آپ کو آپ کے لئے ہبہ کر دیے، چناں چہ آپ ﷺ کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئی اور اس نے اپنے آپ کو آپ کے لئے ہبہ کر دیا اس امید میں کہ شاید وہ آپ کی ایک بیوی بن سکے۔ آپ ﷺ نے اس کی طرف دیکھا لیکن وہ آپ کے دل میں جگہ نہ بنا سکی، لیکن آپ ﷺ نے اسے واپس نہیں کیا تاکہ وہ شرمندہ نہ ہو، لھذا آپ ﷺ نے اس سے اعراض کیا، تو وہ بیٹھ گئی تو ایک شخص کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ کو حاجت نہیں تو اس سے میرا نکاح کرا دیجئے۔ چوں کہ نکاح میں مہر ضروری ہے اس لئے آپ ﷺ نے اس آدمی سے فرمایا: کیا تمہارے پاس اسے مہر میں ادا کرنے کے لئے کچھ ہے؟ وہ بولا: میرے اس تہبند کے علاوہ میرے پاس کچھ بھی نہیں۔ اور اگر وہ اپنا ازار اسے مہر میں دے دیتا تو ننگا بچتا، اس کے پاس کوئی ازار نہیں رہتا، اسی لئے آپ ﷺ نے فرمایا: ”تلاش کرو چاہے لو ہے کی انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو“۔ جب اس کے پاس(تلاش کرنے کے باوجود) کچھ نہ ملا تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا: ”کیا تجھے کچھ قرآن یا د ہے؟“ کہنے لگا: ہاں۔ آپ ﷺ نے اس سے کہا: جو کچھ تجھے قرآن یاد ہے اسی کے یا د کرانے کے بدلے میں نے اس کے ساتھ تیرا نکاح کر دیا۔

تشریح: العربية

خُص النبي صلى الله عليه وسلم بأحكام ليست لغيره. منها: تزوجه من تهب نفسها له بغير صداق، فجاءت امرأة واهبة له نفسها، لعلها تكون إحدى نسائه. فنظر إليها فلم تقع في نفسه، ولكنه لمْ يردها، لئلا يخجلها، فأعرض عنها، فجلست، فقال رجل: يا رسول الله، زَوجْنيهَا إن لم يكن لك بها حاجة. وبما أن الصداق لازم في النكاح، قال له: هل عندك من شيء تصدقها؟. فقال: ما عندي إلا إزاري. وإذا أصدقها إزاره يبقى عريانا لا إزار له، فلذلك قال له: "التمس، ولو خاتَماً من حديد". فلما لم يكن عنده شيء قال: "هل معك شيء من القرآن؟" قال: نعم. قال صلى الله عليه وسلم : زوجتكها بما معك من القرآن، تعلمها إياه، فيكون صداقها.

  • جواز عرض المرأة نفسها، أو الرجل ابنته، على رجل من أهل الخير والصلاح.
  • جواز نظر من له رغبة في الزواج إلى المرأة التي يريد الزواج منها، والحكمة في ذلك، ما أشار إليه -صلى الله عليه وسلم- بقوله: "انظر إليها، فهو أحرى أن يؤدم بينكما".والمسلمون -الآن- بين طَرَفَيْ نقيض.فمنهم: المتجاوزون حدود الله تعالى، بتركها مع خطيبها في المسارح والمتنزهات والخلوات.ومنهم: المقصرون الذين يمنعون رؤيِتها ممن يريد الزواج. وسلوك السبيل الوسط هو الحق كما قال تعالى: (وَكَان بَيْنَ ذلِكَ قَوَاماً).
  • ولاية الإمام على المرأة التي ليس لها ولي من أقربائها.
  • أنه لابد من الصداق في النكاح، لأنه أحد العوضين.
  • يجوز أن يكون الصداق يسيرا جدا للعجز لقوله: "ولو خاتما من حديد"، على أنه يستحب تخفيفه للغني والفقير؛ لما في ذلك من المصالح الكثيرة.
  • الأَولى ذكر الصداق في العقد ليكون، أقطع للنزاع، فإن لم يذكر، صح العقد، ورجع إلى مهر المثل.
  • أن خطبة العقد لا تجب، حيث لم تذكر في هذا الحديث.
  • أنه يصح أن يكون الصداق منفعة، كتعليم قرآن، أو فقه، أو أدب، أو صنعة، أو غير ذلك من المنافع.
  • أن النكاح ينعقد بكل لفظ دال عليه.والدليل على ذلك، ألفاظ الحديث، فقد ورد بلفظ "زوجتكها" وبلفظ "مَلَّكْتُكَهَا" وبلفظ "أمكَناكَهَا".
  • حسن خلقه ولطفه -صلى الله عليه وسلم-، إذ لم يردها حين لم يرغب فيها، بل سكت حتى طلبها منه بعض أصحابه.
  • لا دلالة بحديث الكتاب على جواز لبس خاتم الحديد، لأنه لا يلزم من جواز الاتخاذ جواز اللبس، وقد جاء رجل إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- وعليه خاتم من حديد، فقال: مالي أرى عليك حلية أهل النار؟ فطرحه، وقد أخرج هذا الحديث أصحاب السنن.
  • المراوضة في الصداق وخطبة المرء لنفسه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید