حدیث

سب سے بڑے گناہ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، اللہ کی رحمت ونعمت سے مایوس ہوجانا، اس کی پوشیدہ تدبیر سے بے خوف ہو جانا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

اس حدیث کی سند صحیح ہے۔اسے امام عبد الرزّاق نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: "أكبر الكبائر: الإشراك بالله، والأمن من مَكْرِ الله، والقُنُوطُ من رحمة الله، واليَأْسُ من رَوْحِ الله".

ترجمہ

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”سب سے بڑے گناہ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، اللہ کی رحمت ونعمت سے مایوس ہوجانا، اس کی پوشیدہ تدبیر سے بے خوف ہو جانا“۔

تشریح

اس حدیث میں اللہ کے رسول ﷺ نے ان گناہوں کا ذکر کیا جو کبیرہ گناہ شمار ہوتے ہیں اوروہ یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت یا عبودیت میں اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، اس کو پہلے ذکر کیا اس لئے کہ یہ سب سے بڑا گناہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید ہونا،اس لئے کہ یہ اللہ کے بارے میں بدگمانی ہے اور اس کی وسیع رحمت سے نا واقفیت ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے بندے کو نعمتوں کے ذریعہ ڈھیل دینے اور حالت غفلت میں اچانک پکڑلینے سے بے خوف رہنا۔ اس حدیث سے مُراد یہ نہیں کہ کبیرہ گناہ صرف یہی ہیں۔ اس لئے کہ کبیرہ گناہ بہت ہیں۔ تاہم یہاں ان میں سے سب سے بڑے گناہوں کا ذکر کیا ہے۔

فوائد

  • گناہوں کا کبائر و صغائر میں منقسم ہونا۔
  • شرک سب سے بڑا گناہ ہے۔
  • اللہ سبحانہ کے مکر سے مامون ہونا اور اس کی رحمت سے مایوس و ناامید ہونا حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔
  • اللہ تعالی کو مکرکرنے والوں کے مقابلے میں صفت مکر سے متصف کرنا جائز ہے۔ یہ دراصل صفت کمال ہے۔ مذموم مکر وہ ہے، جو اس شخص سے کیا جائے، جو مکر کا مستحق نہ ہو۔
  • بندے پر واجب ہے کہ وہ خوف و رجا کے درمیان رہے۔ جب وہ خوف کرے، تو مایوس نہ ہو اور جب امید رکھے، تو مامون نہ رہے۔
  • اللہ تعالیٰ کے لیے صفت رحمت کا اثبات، جو اس کی عظمت کے شایان شان ہو۔
  • اللہ عزوجل سے اچھا گمان رکھنا واجب ہے۔
تشریح: العربية

ذكر رسول الله -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- في هذا الحديث ذنوبًا تعتبر من كبائر الذنوب، وهي: أن يُجعل لله سبحانه شريكٌ في ربوبيته أوعبوديته وبدأ به؛ لأنه أعظم الذنوب، وقطع الرجاء والأمل من الله؛ لأن ذلك إساءة ظنٍّ بالله وجهل بسعة رحمته، والأمن من استدراجه للعبد بالنعم حتى يأخذه على غفلة، وليس المراد بهذا الحديث حصر الكبائر فيما ذكر؛ لأن الكبائر كثيرة، لكن المراد بيان أكبرها.

  • انقسام الذنوب إلى كبائر وصغائر.
  • أن الشرك أعظم الذنوب وأكبر الكبائر.
  • تحريم الأمن من مكر الله -سبحانه- واليأس من رحمته، وأنهما من أكبر الكبائر.
  • جواز وصف الله -تعالى- بالمكر في مقابلة الماكرين، وهذه صفة كمال، والمذموم هو المكر بمن لا يستحق أن يُمكر به.
  • أن الواجب على العبد أن يكون بين الخوف والرجاء، فإذا خاف لا ييأس، وإذا رجا لا يأمن.
  • إثبات صفة الرحمة لله -تعالى- على وجه يليق بجلاله.
  • وجوب إحسان الظن بالله -عز وجل-.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید