حدیث

اسے نہ خریدو اور اپنا صدقہ واپس نہ لو، اگرچہ وہ شخص تمھیں وہ گھوڑا ایک درہم میں ہی کیوں نہ دے۔ کیوںکہ کسی کا بطور ہبہ دی گئی شے کو واپس لینا ایسے ہی ہے، جیسے کوئی قے کر کے اسے چاٹ لے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: «حَمَلْتُ على فرس في سبيل الله، فأضاعه الذي كان عنده، فأردت أن أشتريه، وظننت أنه يبيعه بِرُخْصٍ، فسألت النبي صلى الله عليه وسلم ؟ فقال: لا تَشْتَرِهِ، ولا تعد في صدقتك؛ فإن أَعْطَاكَهُ بِدِرْهَمٍ؛ فإن العَائِدَ في هِبَتِهِ كالعَائِدِ في قَيْئِهِ».

ترجمہ

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے راستے میں (جہاد کےلیے) ایک گھوڑا کسی کو سواری کے لیے دیا اور جسے دیا تھا، اس نے اس کی حالت بالکل ہی بگاڑ دی ۔ اس لیے میرا ارادہ ہوا کہ میں اسے واپس خرید لوں۔ میرا خیال تھا کہ وہ شخص اسے سستے داموں میں بیچ دے گا۔ اس کے متعلق میں نے نبی ﷺ سے جب پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسے نہ خریدو اور اپنا صدقہ واپس نہ لو، اگرچہ وہ شخص تمھیں وہ گھوڑا ایک درہم میں ہی کیوں نہ دے۔ کیوںکہ کسی کا بطور ہبہ دی گئی شے کو واپس لینا ایسے ہی ہے، جیسے کوئی قے کر کے اسے چاٹ لے۔

تشریح

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جہاد فی سبیل اللہ میں کسی شخص کی معاونت کرتے ہوئے اسے ایک گھوڑا دیا؛ تاکہ وہ اس پر بیٹھ کر لڑسکے۔ اس شخص نے اس گھوڑے پر خرچ کرنے میں کوتاہی برتی اور اچھے انداز میں اس کی دیکھ بھال نہیں کی اور اس سے اتنا کام لیا کہ وہ نحیف اور کمزور ہو گیا۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ ا س سے وہ گھوڑا خرید لیں۔ انھوں نے کہ گھوڑا نحیف اور لاغر ہونے کی وجہ سے سستا میں مل جاۓ گا۔ تاہم نبی ﷺ سے مشورہ لینے سے پہلے انھوں نے اسے خریدنے کی بات نہیں چلائی؛ کیونکہ ان کے دل میں اس سلسلے میں کچھ کھٹکا تھا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے انھیں اسے خریدنے سے منع فرما دیا، اگرچہ وہ کم قیمت پر ہی مل رہا ہو؛ کیوںکہ یہ اللہ کی راہ میں دی گئی شے تھی۔ (اس لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ) اس کے پیچھے نہ لگو اور نہ ہی اس سے کوئی واسطہ رکھو، تاکہ کہیں یہ نہ ہو کہ جسے وہ گھوڑا بطور ہبہ دیا گیا تھا، وہ اس کی قیمت میں تمھارے لیے کچھ کمی کر دے اور اس طرح تم اپنے دیے گئے صدقے کے کچھ حصے کو واپس لینے والے بن جاؤ۔ چوںکہ یہ شے تمھاری ملکیت سے نکل چکی ہے اور اس کی وجہ سے تمھارے گناہ معاف ہوئے اور اس نے تمھیں بہت سی برائیوں اور گندگیوں سے چھٹکارا دیا، اس لیے مناسب نہیں کہ وہ لوٹ کر دوبارہ تمھارے پاس آئے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے اسے خریدنے کو صدقہ دے کر واپس لینے کا نام دیا، حالاںکہ وہ اسے قیمت کے ساتھ خرید رہے تھے۔ اور اسے قے کر کے چاٹنے سے تشبیہ دی ہے، قے یعنی پیٹ میں موجود چیز منہ کے راستہ سے باہر آئے، قے کو دوبارہ لوٹانے سے مراد اسے چاٹنا ہے، اس قسم کی تشبیہ دینے کا مقصد اس فعل سے نفرت پیدا کرنا اور اس کی قباحت کو بیان کرنا ہے۔

تشریح: العربية

أعان عمر بن الخطاب رضي الله عنه رجلا على الجهاد في سبيل الله، فأعطاه فرسا يغزو عليه، فقصر الرجل في نفقة ذلك الفرس، ولم يحسن القيام عليه، وأتعبه حتى هزل وضعف، فأراد عمر أن يشتريه منه وعلم أنه سيكون رخيصًا لهزاله وضعفه، فلم يقدم على شرائه حتى استشار النبي صلى الله عليه وسلم عن ذلك، ففي نفسه من ذلك شيء، فنهاه النبي صلى الله عليه وسلم عن شرائه ولو بأقل ثمن، لأن هذا شيء خرج لله تعالى فلا تتبعه نفسك ولا تعلق به، ولئلا يحابيك الموهوب له في ثمنه، فتكون راجعاً ببعض صدقتك، ولأن هذا خرج منك، وكفر ذنوبك، وأخرج منك الخبائث والفضلات، فلا ينبغي أن يعود إليك، ولهذا سمى شراءه عوداً في الصدقة مع أنه يشتريه بالثمن، وشبهه بالعود في القيء، وهو ما يخرج من البطن عن طريق الفم، والعود فيه أن يأكله بعد خروجه، وهذا للتقبيح والتنفير عن هذا الفعل.

  • استحباب الإعانة على الجهاد في سبيل اللّه، وأن ذلك من أجل الصدقات، فقد سماه النبي -صلى الله عليه وسلم- صدقة.
  • أن عمر تصدق على ذلك المجاهد بالفرس ولم يجعلها وقفا عليه، أو وقفا في سبيل الله على الجهاد، وإلا لما جاز للرجل بيعه.
  • نهي الإنسان عن شراء صدقته، لأنها خرجت لله، فلا ينبغي أن تتعلق بها النفس، وشراؤها دليل على تعلقه بها، ولئلا يحابيه البائع فيعود عليه شيء من صدقته.
  • يحرم الرجوع في الصدقة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید