حدیث

رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ بیماری کی حالت میں اپنے گھر میں نماز پڑھی۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عائشة رضي الله عنها قالت: صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم في بيته وهو شَاكٍ، صلى جالسا، وصلى وراءه قوم قِيَامًا، فأشار إليهم: أنِ اجْلِسُوا، لما انْصَرَفَ قال: إنما جُعِلَ الإمامُ لِيُؤْتَمَّ به: فإذا ركع فاركعوا، وإذا رفع فارفعوا، وإذا قال: سمع الله لمن حمده فقولوا: ربنا لك الحمد، وإذا صلى جالسا فصلوا جلوسا أجمعون».

ترجمہ

عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ بیماری کی حالت میں اپنے گھر میں بیٹھ کر نماز پڑھی، کچھ لوگ آپ ﷺ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے تو آپ ﷺ نے انھیں اشارہ کیا کہ وہ بیٹھ جائیں۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے، تو فرمایا: ”امام اس لیے بنایاجاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ اس لیے جب وہ رکوع میں جائے، تو تم بھی رکوع میں جاؤ اور جب وہ سر اٹھائے، تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب وہ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہے، تو تم رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے، تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو“۔

تشریح

اس حدیث میں بیماری کی وجہ سے آپ ﷺ کے بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ذکر ہے اور اس بات کا بیان ہے کہ مقتدی کیسے امام کی اقتدا اور اتباع کرے۔ نبی ﷺ نے مقتدیوں کو امام متعین کرنے کی حکمت کی طرف توجہ دلائی کہ امام اس لیے ہوتا ہے کہ اس کی اقتدا اور اتباع کی جائےاور نماز کے اعمال میں سے کسی بھی عمل میں اس کی مخالفت نہ کی جائے، بلکہ ایک منظم انداز میں اس کی حرکات و سکنات کا خیال رکھا جائے۔ چنانچہ جب وہ تکبیر تحریمہ کہے، تو تم بھی ایسے ہی کہو، جب وہ رکوع کرے، تو اس کے بعد تم بھی رکوع کرو، جب وہ ”سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“ کہہ کر تمھیں یاد دہانی کرائے کہ اللہ تعالی اس شخص کی سنتا ہے، جو اس کی حمد بیان کرتا ہے، تو تم ”رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ“ کہہ کر اللہ کی حمد بیان کرو، جب وہ سجدے میں جائے، تو اس کی اتباع میں تم بھی سجدے میں چلے جاو اور جب امام کھڑا ہونے سے قاصر ہو اور بیٹھ کر نماز پڑھے، تو اس کی اتباع میں تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو اگرچہ تم میں کھڑے ہونے کی قدرت موجود ہو۔ اس لیے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ مرض میں مبتلا تھے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے بیٹھ کر نماز پڑھی۔ صحابۂ کرام نے یہ سوچا کہ چوںکہ انھیں قیام پر قدرت حاصل ہے، اس لیے ان پر قیام کرنا واجب ہے۔ چنانچہ انھوں نے آپ ﷺ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھنا شروع کر دی۔ اس پر نبی ﷺ نے انھیں اشارہ کیا کہ وہ بیٹھ جائیں۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہو کر واپس مڑے، تو ان کی راہ نمائی فرمائی کہ امام کی مخالفت نہیں کی جانی چاہیے، بلکہ اس کی موافقت ہونی چاہیے؛ تاکہ اس کی پوری طرح سے اتباع اور کامل طور پر اقتدا ہو سکے، بایں طور کہ مقتدی قیام کی قدرت رکھنے کے باوجود بیٹھ کر نماز پڑھے؛ کیونکہ اس کا امام بیٹھا ہوا ہے اور قیام نہیں کر سکتا۔ یہ اس وقت ہو گا، جب کہ امام انھیں نماز پڑھانے کا آغاز ہی بیٹھ کر کرے، اس صورت میں وہ اس کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھیں گے۔ وه امام جو مسجد میں ہمیشہ نماز پڑھاتا ہے، وہ اگر کھڑے ہو کر لوگوں کو نماز پڑھانا شروع کرے، لیکن دوران نماز کسی علت کے لاحق ہونے پر بیٹھ جائے، تو اس صورت میں مقتدیوں کا اس کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پوری کرنا واجب ہے۔ اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے، جس میں مرض الموت میں نبی ﷺ کے ابو بکر رضی اللہ عنہ اور لوگوں کو نماز پڑھانے کا ذکر ہے۔

تشریح: العربية

في هذا الحديث صلاة النبي صلى الله عليه وسلم جالسًا لمرضه، وفيه بيان صفة اقتداء المأموم بالإمام، ومتابعته له. فقد أرشد النبي صلى الله عليه وسلم المأمومين إلى الحكمة من جعل الإمام وهي أن يقتدي به ويتابع، فلا يختلف عليه بعمل من أعمال الصلاة، وإنما تراعى تَنَقلاته بنظام فإذا كبر للإحرام، فكبروا أنتم كذلك، وإذا رَكع فاركعوا بعده، وإذا ذكركم أن الله مجيب لمن حمده بقوله: "سمع الله لمن حمده" فاحمدوه تعالى بقولكم: "ربنا لك الحمد"، وإذا سجد فتابعوه واسجدوا، وإذا صلى جالساً لعجزه عن القيام؛ -فتحقيقاً للمتابعة- صلوا جلوساً، ولو كنتم على القيام قادرين. فقد ذكرت عائشة أن النبي صلى الله عليه وسلم اشتكى من المرض فصلى جالساً، وكان الصحابة يظنون أن عليهم القيام لقدرتهم عليه؛ فصلوا وراءه قياما فأشار إليهم: أن اجلسوا. فلما انصرف من الصلاة أرشدهم إلى أن الإمام لا يخالف، وإنما يوافق؛ لتحقق المتابعة التامة والاقتداء الكامل، بحيث يصلى المأموم جالساً مع قدرته على القيام لجلوس إمامه العاجز، وهذا إن ابتدأ بهم الصلاة جالساً صلوا خلفه جلوسًا، وإن ابتدأ بهم الإمام الراتب الصلاة قائماً، ثم اعتل في أثنائها فجلس أتموا خلفه قياماً وجوباً؛ عملا بحديث صلاة النبي صلى الله عليه وسلم بأبي بكر والناس حين مرِض مرَض الموت.

  • أنه يجوز على النبي -صلى الله عليه وسلم- ما يجوز على البشر من الأسقام والأمراض؛ لازدياد قدره رفعة.
  • جواز إمامة العاجز عن القيام بالقادرين عليه.
  • جواز الإشارة في الصلاة للحاجة.
  • وجوب متابعة المأموم للإمام في الصلاة وتحريم المسابقة.
  • تحريم مخالفة الإمام وبطلان الصلاة بها.
  • أن الأفضل في المتابعة، أن تقع أعمال المأموم بعد أعمال الإمام مباشرة. قال الفقهاء: وتكره المساواة والموافقة في هذه الأعمال.
  • أن من الحكمة في جعل الإمام في الصلاة؛ الاقتداء والمتابعة.
  • تَحَتمُ طاعة القادة وولاة الأمر ومراعاة النظام، وعدم المخالفة والانشقاق على الرؤساء.
  • أن المأموم يقول: "ربنا لك الحمد" بعدما يقول الإمام: "سمع الله لمن حمده"، والمنفرد والإمام يقول: "سمع الله لمن حمده، ربنا ولك الحمد".
  • وجوب متابعة الإمام، وأنها مقدمة على غيرها من أعمال الصلاة؛ فقد أسقط القيام عن المأمومين القادرين عليه، مع أنه أحد أركان الصلاة، كل ذلك؛ لأجل كمال الاقتداء.
  • أن الإمام إذا صلى جالسًا -لعجزه عن القيام- صلى خلفه المأمومون جلوساً ولو كانوا قادرين على القيام؛ تحقيقًا للمتابعة والاقتداء.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید