ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عبد الله بن عباس رضي الله عنهما قال: قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة، وهم يُسلفون في الثمار: السنة والسنتين والثلاث، فقال: «من أسلَفَ في شيء فليُسلف في كيل معلوم، ووزن معلوم، إلى أجل معلوم».
ترجمہ
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ آئے تو آپ ﷺ نے دیکھا کہ اہلِ مدینہ پھلوں میں ایک، دو اور تین سالوں کے لیے بیعِ سلف (بیع سلم) کرتے ہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: جسے کسی چیز کی بیع سلم کرنی ہو وه اسے مقررہ پیمانے اور مقرره وزن اور متعينہ مدت تک کے لیے روک کر رکھے۔
تشریح
نبی ﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے دیکھا کہ مدینہ کے باشندے جو کھیتیوں اور باغات کے مالک تھے بیع سلم کیا کرتے تھے بایں طور کہ وہ قیمت کو پہلے ہی ادا کر دیا کرتے تھے اور پھلوں کی ادائگی کو ایک سال یا دو سال یا تین سال تک موخر رکھتے۔ نبی ﷺ نے انہیں اس معاملے کی اجازت دی اور اسے بیع کی اس قسم میں سے نہیں گردانا جس میں بائع ایسی شے فروخت کرتا ہے جو اس کے پاس نہیں ہوتی اور جو غرر تک لے جاتی ہے۔ کیونکی بیع سلم کا تعلق ذمہ کے ساتھ ہوتا ہے نہ کہ اشیاء کے ساتھ۔ تاہم نبی ﷺ نے اس معاملے کے کچھ احکامات کی وضاحت فرما دی جو لوگوں کو ان لڑائی جھگڑوں سے بچاتے ہیں جو بعض اوقات مدت کے لمبا ہونے کی وجہ سے پیدا ہو جاتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جو کسی شے میں بیع سلم کرے اسے چاہئے کہ وہ شرعی طور پر معروف کیل اور وزن کے آلات کے ذریعے اس کی مقدار کا پوری طرح تعین کرے اور اسے ایک مقررہ مدت تک رکھے تاکہ اس کی مقدار اور مدت معلوم ہونے کی وجہ سے لڑائی جھگڑا کا احتمال نہ رہے اور خریدار اپنا حق پوری طرح سے وصول کر لے۔
تشریح: العربية
قدم النبي صلى الله عليه وسلم للمدينة مهاجرًا من مكة كما هو معلوم، فوجد أهل المدينة -لأنهم أهل زروع وثمار- يسلفون، وذلك بأن يقدموا الثمن ويؤجلوا المثمن -المسلم فيه- من الثمار، مدة سنة، أو سنتين، أو ثلاث سنين، أو أقل أو أكثر لأن هذه المدد للتمثيل، فأقرهم صلى الله عليه وسلم على هذه المعاملة ولم يجعلها من باب بيع ما ليس عند البائع المفضي إلى الغرر؛ لأن السلف متعلق بالذمم لا الأعيان، ولكن بين صلى الله عليه وسلم لهم في المعاملة أحكاما تبعدهم عن المنازعات والمخاصمات التي ربما يجرها طول المدة في الأجل فقال: من أسلف في شيء فليضبط قدره بمكياله أو ميزانه المعلومين، وليربطه بأجل معلوم، حتى إذا عرف قدره وأجله انقطعت الخصومة والمشاجرة، واستوفى كل منهما حقه بسلام.
- يشترط في السلم ما يشترط في البيع، لأنه أحد أنواعه، فلابد أن يكون العقد من جائز التصرف، مالك للمعقود عليه، أو مأذون له فيه، ولابد فيه من الرضا، وأن يكون المسلم فيه مما يصح بيعه، ولابد فيه من القدرة عليه وقت حلوله، وأن يكون الثمن والمثمن معلومين.
- يزيد السلم على شروط البيع شروطاً ترجع إلى زيادة ضبطه وتحريره، لئلا تفضي المعاملة إلى الشجار والمخاصمة ، ونأخذ أهم هذه الشروط من الحديث الذي معنا: الشرط الأول: أن يبين قدر المسلم فيه بمكياله أو ميزانه الشرعيين، إن كان مكيلا أو موزوناً، أو بذرعه، إن كان مما يُذْرَعُ، أو بِعَدّهِ إن كان مما يُعَد، ولا يختلف المعدود بالكبر أو الصغر أو غيرهما، اختلافاً ظاهراً.
- الشرط الثاني الذي دل عليه الحديث أن يكون مؤجلا، ولابد في الأجل أن يكون معلوما، فلا يصح حالاُّ، ولا إلى أجل مجهول.
- الشرط الثالث أن يقبض الثمن بمجلس العقد، وهذا مأخوذ من قوله: "فَلْيُسْلِفْ" لأن السلف هو البيع، الذي عُجلَ ثمنه وأجلِ مثمنه.
- الشرط الرابع أن يسلم في الذمة لا في الأعيان، وهذا هو الذي سوَغ العقد، وإن كان وفاؤه من شيء غير موجود عند البائع، وإنما يستوفى من ثمار أو زروع لم توجد وقت العقد.وبهذا تبين أن السلم لم يتناوله النهى في قوله: "ولا تبع ما ليس عندك" وأن العقد عليه وفق القياس.