حدیث

نبی کریم ﷺ نے عمر بھر کے لیے ہبہ کئے گئے مکان کے بارے میں فیصلہ فرمایا کہ اسی کا ہے جس کے لئے وہ ہبہ کیا گیا ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ

عربی متن

عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال: «قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم بالعُمْرَى لمن وهبت له». وفي لفظ: «من أُعمِر عمرى له ولعقبه؛ فإنها للذي أعطيها، لا ترجع إلى الذي أعطاها؛ لأنه أعطى عطاء وقعت فيه المواريث». وقال جابر: «إنما العمرى التي أجازها رسول الله صلى الله عليه وسلم ، أن يقول: "هي لك ولعقبك"، فأما إذا قال: "هي لك ما عشت"؛ فإنها ترجع إلى صاحبها». وفي لفظ لمسلم: «أمسكوا عليكم أموالكم ولا تفسدوها، فإنه من أُعمِر عمرى فهي للذي أُعمِرها حيًّا وميتًا ولعقبه».

ترجمہ

جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے عمر بھر کے لیے ہبہ کیے گئے مکان کے بارے میں فیصلہ فرمایا کہ وہ اسی کا ہے جس کے لیے وہ ہبہ کیا گیا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ جس کو کوئی مکان عمر بھر کے لیے دیا گیا وہ اس کا ہے اور اس کی اولاد کا۔ بے شک وہ اسی کا ہے جس کے لیے وہ ہبہ کیا گیا وہ اس شخص کی طرف نہیں لوٹایا جائے گا جس نے وہ دیا ہے کیونکہ یہ ایسا عطیہ ہے جس میں موہوب لہ کا ورثہ جاری ہو چکا ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر بھر کے لیے دیا گیا مکان جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے اجازت دی کہ ہبہ کرنے والا انسان کسی سے کہہ دے کہ یہ چیز آپ کی اور آپ کی اگلی نسل کی ہوگئی ہے اور اگر یہ شخص یہ کہتا ہے یہ صرف آپ کی زندگی تک کے لیے ہے آپ کی ہوگئی تو وہ چیز مالک کے پاس لوٹ جائے گی۔ مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ (نبی ﷺ نے فرمایا) اپنے مال اپنے قبضے میں رکھو اسے ضائع نہ کرو، جس نے عمر بھر کے لیے مکان دے دیا وہ زندگی میں اسی کا ہے جسے وہ دیا گیا اور مرنے کے بعد اس کی اولاد کا ہے۔

تشریح

”عُمرى“ اور اسی کی طرح ”رُقبى“ ہبہ کی دو قسمیں ہیں، زمانۂ جاہلیت میں لوگ اس طرح كا ہبہ کیا کرتے تھے، ایک شخص دوسرے کو گھر وغیرہ ان الفاظ میں دیتا جیسے ”میں نے وہ گھر تجھے عمر بھر کے لیے ہبہ کیا“ یا ”میں نے تمہاری عمر بھر یا اپنی عمر بھر میں وہ گھر آپ کو دے دیا“۔ لوگ موہوب لہ (جس کو ہبہ کیا گیا ہے۔) کے مرنے کا انتظار کرتے، تاکہ وہ اپنا ہبہ واپس کردے۔ شریعت نے ہبہ کو برقرار رکھا اور اس کی مروّجہ شرط یعنی لوٹانے کو باطل قرار دیا۔ اس لیے کہ ہبہ کو واپس لینے والا کتے کی طرح ہے جو قے کر کے واپس نگلتا ہے۔ اسی وجہ سے آپ ﷺ نے عمر بھر کے ہبہ کا فیصلہ موہوب لہ اور اس کے بعد اس کے پسماندگان کے لیے کیا۔ آپ ﷺ نے لوگوں کو اپنے اموال کی حفاظت کرنے کی تنبیہ فرمائی تاکہ لوگ اپنے گمان میں اس شرط کو لازم قرار نہ دیں اور اس چیز کو واپس لینے کو جائز جانیں۔ چنانچہ فرمایا ”اپنے مال اپنے قبضے میں رکھو اسے ضائع نہ کرو، جس نے عمر بھر کے لیے مکان دے دیا وہ زندگی میں اسی کا رہے گا جسے وہ دیا گیا ہو اور مرنے کے بعد اس کی اولاد کا ہوجائے گا“۔

تشریح: العربية

العُمْرى ومثلها الرُّقْبى: نوعان من الهبة، كانوا يتعاطونهما في الجاهلية، فكان الرجل يعطى الرجل الدار أو غيرها بقوله: أعمرتك إياها أو أعطيتكها عمرك أو عمري. فكانوا يرقبون موت الموهوب له، ليرجعوا في هبتهم. فأقر الشرع الهبة، وأبطل الشرط المعتاد لها، وهو الرجوع، لأن العائد في هبته، كالكلب، يقيئ ثم يعود في قيئه، ولذا قضى النبي صلى الله عليه وسلم بالعمرى لمن وهبت له ولعقبه من بعده. ونبههم صلى الله عليه وسلم إلى حفظ أموالهم بظنهم عدم لزوم هذا الشرط وإباحة الرجوع فيها فقال: "أمسكوا عليكم أموالكم ولا تفسدوها، فإنه من أعمر عمرى فهي للذي اعمِرَها، حياً وميتا، ولعقبها".

  • صحة هبة "العمرى" وأنها من منح الجاهلية التي أقرها الإسلام وهذبها بمنع الرجوع فيها، لما في الرجوع من الدناءة والبشاعة.
  • أنها تكون للموهوب له ولعقبه، سواء أكانت مؤبدة أم مطلقة.
  • أن الشروط الفاسدة غير لازمة في العقد، ولو ظنها العاقد لازمة نافعة له، لكن قال الفقهاء: ويثبت الخيار في إمضاء البيع أورده للمشترط.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید