حدیث

رسول اللہ ﷺ نے ہر اس چیز میں شُفعہ کا فیصلہ فرمایا تھا جو ابھی تقسیم نہ ہوئی ہو۔ لیکن جب حدود مقرر ہو گئیں اور راستے بدل دیے گئے تو پھر حقِ شفعہ باقی نہیں رہتا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال: (جعل وفي لفظ: قضى) النبي صلى الله عليه وسلم بالشُّفْعة في كل ما لم يقسم، فإذا وقعت الحدود، وصُرِّفَتِ الطرق؛ فلا شفعة).

ترجمہ

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہر اس چیز میں شفعہ کا حق دیا تھا (ایک روایت کے میں فیصلہ فرمایا تھا) جو ابھی تقسیم نہ ہوئی ہو۔ لیکن جب حدود مقرر ہو گئیں اور راستے بدل دیے گئے تو پھر حق شفعہ باقی نہیں رہا۔

تشریح

یہ حکیمانہ شریعت حق و عدالت کو ثابت کرنے اور شر اور نقصان کو دور کرنے کے لیے آئی ہے۔ اسی وجہ سے جب زمینوں میں شراکت ضرر کا باعث بنے اور شراکت کا نقصان طول پکڑے اور تقسیم گراں گزرے، تو صاحبِ شریعت حکمت والی ذات (اللہ) نے حصے دار کو شفعہ کرنے کا حکم دیا۔ یعنی جب ایک شریک مشترک زمین میں سے اپنا حصہ بیچے، تو شریعت شراکت کی وجہ سے ہونے والے نقصان کو دور کرنے کے لیے دوسرے شریک کو خریدار سے قیمت کے بدلے اس کا حصہ لینے کا حق دیتی ہے۔ یہ حق شریک کو اس وقت تک رہتا ہے جب تک زمین تقسیم نہ ہو، اس کی حدبندی نہ ہو اور اس کے راستے نہ بنے۔ حدبندی اور دوسروں کے حصوں میں تمییز اور راستے بننے کے بعد کوئی شفعہ نہیں۔ کیونکہ اب شراکت کی وجہ سے وہ نقصان ختم ہو گیا جس کی وجہ دوسرے شریک کو خریدار سے مبیع (بیچی جانے والی شے) لینے کا حق تھا۔

تشریح: العربية

هذه الشريعة الحكيمة جاءت لإحقاق الحق والعدل ودفع الشر والضر، ولهذا فإنه لما كانت الشركة في العقارات يكثر ضررها ويمتد شررها وتشق القسمة فيها، أثبت الشارع الحكيم الشفعة للشريك. بمعنى أنه إذا باع أحد الشريكين نصيبه من العقار المشترك بينهما، فللشريك الذي لم يبع أخذ النصيب من المشترى بمثل ثمنه، دفعاً لضرره بالشراكة. هذا الحق، ثابت للشريك ما لم يكن العقار المشترك قد قسم وعرفت حدوده وصرفت طرقه. أما بعد معرفة الحدود وتميزها بين النصيبين، وبعد تصريف شوارعها فلا شفعة، لزوال ضرر الشراكة والاختلاط الذي ثبت من أجله استحقاق انتزاع المبيع من المشتري.

  • هذا الحديث أصل في ثبوت الشفعة وهو مستند الإجماع عليها.
  • تكون الشفعة في العقار المشترك، الذي لم تميز حدوده، ولم تصرف طرقه، لضرر الشراكة التي تلحق الشريك الشفيع.
  • بهذا يعلم أنها لا تثبت للجار، لقيام الحدود وتمييزها.
  • استدل بعضهم بالحديث: على أن الشفعة لا تكون إلا في العقار الذي تمكن قسمته دون ما لا تمكن قسمته، أخذاً من قوله: "في كل ما لم يقسم"؛ لأن الذي لا يقبل القسمة، لا يحتاج إلى نفيه.
  • تثبت الشفعة إزالةً لضرر الشريك، ولذا اختصت بالعقارات لطول مدة الشراكة فيها، وأما غير العقار، فضرره يسير، يمكن التخلص منه بوسائل كثيرة، من المقاسمة التي لا تحتاج إلى كلفة، أو بالبيع ونحو ذلك.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید