حدیث

سونا سونے کے بدلے نہ بیچو مگر برابر برابر، اور ان میں سے ایک کا دوسرے پر اضافہ نہ کرو، اور چاندی کے بدلے چاندی مت بیچو مگر برابر برابر اور ان میں سے کسی کو نقد کے بدلے ادھار نہ بیچو۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہ

عربی متن

عن أبي سعيد الخدري- رضي الله عنه- مرفوعاً: «لا تبيعوا الذهب بالذهب إلا مثِلْاً بمثل، ولا تُشِفُّوا بعضها على بعض، ولا تبيعوا الوَرِقَ بالوَرِقِ إلا مثلا بمثل، ولا تُشفوا بعضها على بعض، ولا تبيعوا منها غائبا بناجز». وفي لفظ «إلا يدا بيد». وفي لفظ «إلا وزنا بوزن، مثلا بمثل، سواء بسواء».

ترجمہ

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سونا سونے کے بدلے نہ بیچو مگر برابر برابر، نہ ہی ان میں سے ایک کا دوسرے پر اضافہ نہ کرو اور چاندی کے بدلے چاندی مت بیچو مگر برابر برابر نیز ان میں سے کسی کو نقد کے بدلے ادھار نہ بیچو“۔ دوسری روایت کے الفاظ ہیں: ہاتھ در ہاتھ (نقد ہی بیچو)۔ اور ایک روایت کے الفاظ ہیں: ہم وزن، ہم مثل اور برابر برابر۔

تشریح

اس حدیث میں آپ ﷺ نے سود کی دو قسموں یعنی فضل اور نسیئہ دونوں کو حرام قرار دیا ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے سونے کو سونے کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا، خواہ وہ ڈھلے ہوئے ہوں یا نہ ہوں، تاہم جب دونوں طرف سے وزن برابر ہو اور مجلسِ عقد ہی میں قبضہ ہو، تو بیچ سکتے ہیں۔ اس لیے کہ ایک کو نقد اور دوسرے کو ادھار بیچنا جائز نہیں۔ اسی طرح آپ نے چاندی کو چاندی کے بدلے بیچنے سے بھی منع فرمایا، خواہ چاندی ڈھلی ہوئی ہو یا نہ ہو۔ تاہم اگر دونوں طرف سے چاندی برابر ہو اور مجلسِ عقد میں دونوں چیزوں پر قبضہ ہو جائے تو جائز ہے۔ ایک طرف سے زیادتی جائز نہیں اور نہ ہی قبضے سے پہلے فریقین کا جُدا ہونا جائز ہے۔

تشریح: العربية

في هذا الحديث الشريف ينهى النبي صلى الله عليه وسلم عن الربا بنوعيه: الفضل، والنسيئة. فهو ينهى عن بيع الذهب بالذهب، سواء أكانا مضروبين، أم غير مضروبين، إلا إذا تماثلا وزناً بوزنْ، وأن يحصل التقابض فيهما، في مجلس العقد، إذ لا يجوز بيع أحدهما حاضراً، والآخر غائبا. كما نهى عن بيع الفضة بالفضة، سواء أكانت مضروبة أم غير مضروبة، إلا أن تكون متماثلة وزناً بوزن، وأن يتقابضا بمجلس العقد. فلا يجوز زيادة أحدهما عن الآخر، ولا التفرُّق قبل التقابض.

  • النهي عن بيع الذهب بالذهب، أو الفضة بالفضة، سواء أكانت مضروبة، أم غير مضروبة، أم مختلفة، ما لم تكن مماثلة بمعيارها الشرعي وهو الوزن، وما لم يحصل التقابض من الطرفين في مجلس العقد.
  • النهي عن ذلك يقتضي تحريمه وفساد العقد.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید