حدیث

بیوہ کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک کہ اس سے امر (حکم) حاصل نہ کرلیا جائے۔ اور کنواری لڑکی کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک کہ اس سے اجازت نہ لے لی جائے۔ صحابہ کرام نے دریافت کیا کہ: اے اللہ کے رسول! اس کی اجازت کیسے ہوگی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس کی اجازت یہ ہے کہ وہ (اجازت طلب کرنے پر) خاموش رہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: «لا تنُكْحَ ُالأيُّم حتى تُستأمر، ولا تنكح البكر حتى تُستَأذن، قالوا: يا رسول الله، فكيف إذنها قال: أن تسكت».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیوہ کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک کہ اس سے امر (حکم) حاصل نہ کرلیا جائے۔ اور کنواری لڑکی کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک کہ اس سے اجازت نہ لے لی جائے۔ صحابہ کرام نے دریافت کیا کہ: اے اللہ کے رسول! اس کی اجازت کیسے ہو گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس کی اجازت یہ ہے کہ وہ (اجازت طلب کرنے پر) خاموشی اختیار کرے“۔

تشریح

عقد نکاح کی بہت زیادہ اہمیت ہے جس کی وجہ سے شوہر کے لئے وہ شے حلال ہو جاتی ہے جس کی عورت سب سے زیادہ حفاظت کرتی ہے یعنی اس کی شرم گاہ۔ اس عقد کی وجہ سے وہ اپنے شوہر کی قید میں چلی جاتی ہے۔ اس لئے اس عادل و رحیم اور حکیم شارع نے اجازت دی ہے کہ وہ اپنے شریک حیات کو دیکھ کر اس کا انتخاب کرے کیونکہ اس کے ساتھ اسی کو زندگی گزارنی ہے اور وہ اپنی رغبتوں اور خواہشات کو زیادہ اچھے انداز میں جانتی ہے۔ اسی وجہ سے نبی ﷺ نے ثیبہ عورت کا صریح انداز میں حکم دیے بنا اس کا نکاح کرنے سے منع کیا ہے۔ اسی طرح کنواری لڑکی سے متعلق بھی منع فرمایا کہ اس کی اجازت کے بغیر اس کا نکاح کیا جائے۔ چونکہ کنواری لڑکی پر حیا غالب ہوتی ہے اس وجہ سے اس کے سلسلے میں اس کے کہنے سے کم تر چیز کافی ہے یعنی اس کی اجازت اور اس سلسلے میں بھی اس کی خاموشی کافی ہے جو اس کی رضا کی دلیل ہوتی ہے۔

تشریح: العربية

عقد النكاح عقد خطير، يستبيح به الزوج أشد ما تحافظ عليه المرأة، هو: بضعها، وتكون بهذا العقد أسيرة عند زوجها، لهذا جعل لها الشارع العادل الرحيم الحكيم أن تختار شريك حياتها، وأن تصطفيه بنظرها، فهي التي تريد أن تعاشره، وهى أعلم بميولها ورغبتها. فلهذا نهى النبي صلى الله عليه وسلم أن تزوج الثيب حتى يؤخذ أمرها فتأمر. كما نهى عن تزويج البكر حتى تستأذن في ذلك أيضا فتأذن. ولأنه يغلب الحياء على البكر اكتفى منها بما هو أخف من الأمر، وهو الإذن، كما اكتفى بسكوتها، دليلا على رضاها.

  • النهي عن نكاح الثيب قبل استئمارها وطلبها ذلك وقد ورد النهى بصيغة النفي، ليكون أبلغ، فيكون النكاح بدونه باطلا.
  • النهْيُ عن نكاح البكر قبل استئذانها، ومقتضى طلب إذنها أن نكاحها بدونه باطل أيضا.
  • البكر تستأذن لغلبة الحياء عليها، فلا تكون موافقتها بأمر كالثيب.
  • يكفي في إذنها السكوت لحيائها -غالبا- عن النطق، والأحسن أن يجعل لموافقتها بالسكوت أجلا، تعلم به أنها بعد انتهاء مدته يعتبر سكوتها إذنا منها وموافقة.
  • لا يكفي في استئمار الثيب واستئذان البكر مجرد الإخبار بالزواج، بل لا بد من تعريفها بالزوج تعريفا تاما، عن سنه، وجماله، ومكانته، ونسبه، وغناه، وعمله، وضد هذه الأشياء، وغير ذلك مما فيه مصلحة لها، خبرا مطابقا للواقع.
  • قال شيخ الإسلام: من كان لها ولي من النسب وهو العصبة فهذه يزوجها الولي بإذنها، ولا يفتقر ذلك إلى حاكم باتفاق العلماء، وأما من لا ولي لها فإن كان في القرية أو المحلة نائب حاكم زوجها، وهو أمير الأعراب ورئيس القرية وإذا كان فيهم إمام مطاع زوجها أيضا بإذنها. -والله أعلم- ومثل ذلك في زماننا ممثل المراكز الإسلامية في البلاد الكافرة.
  • الأحسن الاستشارة في أمر النكاح لعظيم خطره ومكانته.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید