حدیث

کیا تم رفاعہ کے پاس واپس جانا چاہتی ہو؟ نہیں، تم اس وقت تک اس کے پاس نہیں جاسکتی، جب تک تم اس کا مزہ نہ چکھ لو اور وہ تمھارا مزہ نہ چکھ لے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عائشة- رضي الله عنها- مرفوعاً: «جاءت امرأة رفاعة القرظي إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: كنت عند رفاعة القرظي فطلقني فَبَتَّ طلاقي، فتزوجت بعده عبد الرحمن بن الزَّبير، وإنما معه مثل هُدْبَةِ الثَّوْبِ، فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال: أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة؟ لا، حتى تَذُوقي عُسَيْلَتَهُ، ويذوق عُسَيْلَتَكِ، قالت: وأبو بكر عنده، وخالد بن سعيد بالباب ينتظر أن يؤذن له، فنادى: يا أبا بكر، ألا تسمع إلى هذه: ما تَجْهَرُ به عند رسول الله صلى الله عليه وسلم ».

ترجمہ

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کے پاس رفاعہ القرظی کی بیوی آئی اور کہا: میں رفاعہ قرظی کے حرم میں تھی، اس نے مجھے طلاق دی اور طلاقِ بتّہ دی، اس کے بعد میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کی۔ لیکن ان کے پاس تو (شرم گاہ) اس کپڑے کی گانٹھ کی طرح ہے۔ آپ ﷺ مسکرائے اور فرمایا: کیا تم رفاعہ کے ہاں واپس جانا چاہتی ہو؟ ایسا نہیں ہو سکتا، جب تک تم اس (عبد الرحمن) کا مزا نہ چکھ لو اور وہ تمھارا مزا نہ چکھ لے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پاس تھے اور خالد بن سعید دروازے پر اپنے لیے اجازت ملنے کا انتظار کر رہے تھے۔ تو انھوں نے (ابوبکر رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے)کہا: ابوبکر! آپ سن رہے ہیں نا جو یہ زور زور سے رسول اللہ ﷺ سے کہہ رہی ہے؟

تشریح

رفاعہ قرظی رضی اللہ عنہ کی بیوی آپ ﷺ کے پاس اپنی حالت کی شکایت لے کر آئی اور کہا کہ میں رفاعہ کے حرم میں تھی۔ اس نے مجھے آخری طلاق یعنی طلاقِ بتّہ دے دی، یہ ان کی تیسری طلاق تھی۔ اس کے بعد انھوں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کی، لیکن وہ ان کا حق ادا نہیں کرسکتے تھے۔ اس لیے کہ ان کا آلۂ تناسل کمزور لٹکا ہوا تھا اور اس میں تناؤ نہیں تھا۔ آپ ﷺ ان کی اونچی آواز سے گفتگو کرنے اور ایک ایسے مسئلے کی صراحت کرنے پر مسکر اٹھے، جسے بیان کرنے سے عام طور پر عورتیں شرماتی ہیں۔ آپ ﷺ ان کا ارادہ سمجھ گئے۔ یعنی وہ اپنے پہلے شوہر رفاعہ کے پاس واپس جانا چاہتی تھیں۔ ان کے خیال میں عبدالرحمٰن کے ساتھ نکاح کرنے سے یہ رفاعہ کے لئے حلال ہو چکی ہیں۔ لیکن آپ ﷺ نے ان کی بات کا انکار کرتے ہوئے فرمایا کہ رفاعہ کے لیے حلال ہونے کے لیے دوسرے شوہر کے ساتھ جماع کرنا ضروری ہے۔ آپ ﷺ کے پاس ابو بکر رضی اللہ عنہ بیٹھے تھے اور خالد بن سعید دروازے پر کھڑے اجازت ملنے کا انتظار کر رہے تھے۔ خالد رضی اللہ عنہ نے اس عورت پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے، جو اس طرح کی گفتگو رسول اللہ ﷺ کے پاس کر رہی تھی، ابو بکر رضی اللہ عنہ کو آواز دی۔ یہ اس لیے کہ ان کے دلوں میں آپ ﷺ کا رعب اور جلال تھا۔ اللہ ان سے راضی ہو اور انھیں اپنے سے راضی کرے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی آپ ﷺ کے آداب کی رعایت اور اتباع کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

تشریح: العربية

جاءت امرأة رفاعة القرظي شاكية حالها إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فأخبرته أنها كانت زوجاً لرفاعة، فبتَّ طلاقها بالتطليقة الأخيرة، وهي الثالثة من طلقاتها، وأنها تزوجت بعده عبد الرحمن بن الزَّبِير، فادعت أنه لم يستطع أن يمسها لأن ذكرَه ضعيف رِخْو، لا ينتشر. فتبسم النبي صلى الله عليه وسلم من جهرها وتصريحها بهذا الذي تستحي منه النساء عادة، وفهم أن مرادها، الحكم لها بالرجوع إلِى زوجها الأول رفاعة. حيث ظنت أنها بعقد النكاح من عبد الرحمن قد حلت له. ولكن النبي صلى الله عليه وسلم أبى عليها ذلك، وأخبرها بأنه لابد لحل رجوعها إلى رفاعة من أن يطأها زوجها الأخير. وكان عند النبي صلى الله عليه وسلم أبو بكر، وخالد بن سعيد، بالباب ينتظر الإذن بالدخول فنادى خالد أبا بكر، متذمرا من هذه المرأة التي تجهر بمثل هذا الكلام عند رسول الله صلى الله عليه وسلم، كل هذا، لما له في صدورهم من الهيبة والإجلال له صلى الله عليه وسلم ورضي اللَه عنهم وأرضاهم، ورزقنا الأدب معه، والاتباع له.

  • أنه لا يحل بعد هذا البت وهو الطلقة الثالثة أن ينكحها زوجها، الذي بت طلاقها إلا بعد أن تتزوج غيره، ويطأها الزوج الثاني، فيكون المراد بقوله تعالى: {حَتى تَنكِح زوجا غَيْرَهُ } الوطء في عقد نكاح، لا مجرد العقد قال ابن المنذر: أجمع العلماء على اشتراط الجماع لتحل للأول، فلا تحل له حتى يجامعها الثاني.
  • المراد بالعسيلة، اللذة الحاصلة بتغيب الحشفة ولو لم يحصل إنزال مَني، وعليه إجماع العلماء، فلابد من الإيلاج لأنه مظنة اللذة.
  • أنه لابد من الانتشار، وإلا لم تحصل اللذة المشترطة.
  • أنه لا بأس من التصريح بالأشياء التي يستحي منها للحاجة، فقد أقرها النبي صلى الله عليه وسلم على ذلك، وتبسم من كلامها.
  • حسن خلق النبي صلى الله عليه وسلم، وطيب نفسه.
  • قال عياض: اتفق كافة العلماء على أن للمرأة حقا في الجماع، فيثبت الخيار لها إذا تزوجت المجبوب والممسوح جاهلة بهما، ويضرب للعِنِّين أجل سنة لاحتمال زوال ما به.والمجبوب مقطوع الذكر، والممسوح من ولد وليس له ذكر، و العنين العاجز عن الجماع.
  • لا بأس أن تسأل المرأة وعند المفتي من يسمع من الرجال ليستفيد الجميع، فإنها استفتت والصديق حاضر يسمع، وخالد بن سعيد يسمع.
  • وفي الحديث ما كان الصحابة عليه من سلوك الأدب بحضرة النبي صلى الله عليه وسلم، وإنكارهم على من خالف ذلك بفعله أو قوله.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید