ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي هريرة رضي الله عنه أنّ رسولَ الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا يمَنَعَنَّ جارٌ جاره: أن يغرِزَ خَشَبَهُ في جداره، ثم يقول أبو هريرة: ما لي أراكم عنها مُعْرِضِين؟ والله لَأرْميَنّ َبها بين أكتافكم».
ترجمہ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی شخص اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑی گاڑنے سے نہ روکے۔ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ کیا بات ہے کہ میں تمہیں اس سے منہ پھیرنے والا پاتا ہوں؟ اللہ کی قسم! میں تو اسے تمہارے شانوں کے درمیان ڈال ہی کر رہوں گا۔
تشریح
ہمسائے کے اپنے ہمسائے پر بہت سے حقوق ہوتے ہیں جن کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ نبی ﷺ نے ہمسائے کے ساتھ تعلق بحال رکھنے کی ترغیب دی اور فرمایا کہ جبرائیل امین اس کی مسلسل تلقین فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ کو گمان ہونے لگا کہ وہ عنقریب ہمسائے کو وراثت میں حصہ دار ٹھہرا دیں گے کیونکہ اس کا حق بہت زیادہ ہے اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا واجب ہے۔ اسی وجہ سے ضروری ہے کہ پڑوسیوں کے مابین اچھا رہن سہن اور اچھا میل جول ہو اور وہ باہم ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں اور ایک دوسرے کو قولی و فعلی طور پر تکلیف پہنچانے سے گریز کریں۔ یہ بات ہمسایہ گیری اور ہمسایہ کے حقوق کا خیال رکھنے میں آتی ہے کہ پڑوسی ایک دوسرے کو وہ منافع پہنچائیں جن کا فائدہ ان کے پڑوسی کو پہنچتا ہو اور اس سے ان کو کچھ نقصان نہ ہوتا ہو۔ انہی میں سے ایک یہ ہے کہ کوئی پڑوسی اپنے ہمسائے کی دیوار پر لکڑی رکھنا چاہے۔ اگر لکڑی رکھنے والے کو اس کی ضرورت ہو اور دیوار والے کو لکڑی رکھنے سے کوئی نقصان نہ ہوتا ہو تو اس صورت میں دیوار والے کو چاہیے کہ وہ اسے وہ فائدہ اٹھانے دے جس سے اس کو کوئی نقصان نہیں ہوتا ہے خصوصاً جب اس کے ہمسائے کو اس کی ضرورت بھی ہے۔اگر وہ اس کی اجازت نہ دے تو حکمران اسے ایسا کرنے پر مجبور کرے گا۔ لیکن اگر اس سے کوئی نقصان ہوتا ہو یا پھر اس کی کوئی ضرورت نہ ہو تو پھر نقصان کو اسی طرح کے نقصان سے زائل نہیں کیا جائے گا۔ اصل کے اعتبار سے تو مسلمان کو منع کرنے کا حق ہے۔ چنانچہ اس صورت میں اس پر اجازت دینا واجب نہیں۔ چونکہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اس سنت سے جس پر بہت زور دیا گیا ہے شارع اعظم ﷺ کی مراد کو جانتے تھے چنانچہ لوگوں کی طرف سے اس پر عمل سے اعراض برتنے پر انہوں نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور انہیں دھمکی دی کہ وہ ان سے اس پر ضرور عمل کروا کر چھوڑیں گے۔ ہمسائے کے کچھ حقوق ہیں جنہیں اللہ تعالی نے فرض کیا ہے اور جن کا خیال کرنا اور پورا کرنا واجب ہے۔ علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ ہمسائے کا اپنے ہمسائے کی دیوار پر اس کی اجازت کے بغیر لکڑی رکھنا ممنوع ہے جب کہ اس کی وجہ سے کوئی نقصان ہوتا ہو کیونکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے: نہ کسی کو نقصان پہنچاؤ اور نہ خود نقصان اٹھاؤ۔
تشریح: العربية
للجار على جاره حقوق تجب مراعاتها، فقد حث النبي صلى الله عليه وسلم على صلة الجار، وذكر أن جبريل مازال يوصيه به حتى ظن أنه سيورثه من جاره، لعظم حقه، وواجب بره. فلهذا تجب بينهم العشرة الحسنهَ، والسيرة الحميدة، ومراعاة حقوق الجيرة، وأن يكف بعضهم عن بعض الشر القولي والفعلي. ومن حسن الجوار ومراعاة حقوقه أن يبذل بعضهم لبعض المنافع التي لا تعود عليهم بالضرر الكبير مع نفعها للجار. ومن ذلك أن يريد الجار أن يضع خشبة في جدار جاره، فإن وجدت حاجة لصاحب الخشب، وليس على صاحب الجدار ضرر من وضع الخشب، فيجب على صاحب الجدار أن يأذن له في هذا الانتفاع الذي ليس عليه منه ضرر مع حاجة جاره إليه، ويجبره الحاكم على ذلك إن لم يأذن. فإن كان هناك ضرر أو ليس هناك حاجة فالضرر لا يزال بضرر مثله، والأصل في حق المسلم المنع، فلا يجب عليه أن يأذن. ولذا فإن أبا هريرة رضي الله عنه ، لما علم مراد المشرع الأعظم من هذه السنة الأكيدة، استنكر منهم إعراضهم في العمل بها، وتوعدهم بأن يلزمهم بالقيام بها، فإن للجار حقوقا فرضها اللَه تعالى تجب مراعاتها والقيام بها. وقد أجمع العلماء على المنع من وضع خشب الجار على جدار جاره مع وجود الضرر إلا بإذنه لقوله -عليه الصلاة والسلام-: " لا ضرر ولا ضرار ".
- النهْي عن منع الجار أن يضع خشبة على جدار جاره، إذا لم يكن عليه ضرر من وضعها، وكان في الجار حاجة إلى ذلك.
- قيد وضع الخشب بعدم الضرر على صاحب الجدار، وبحاجة صاحب الخشب، لأن التصرف في مال الغير ممنوع إلا بإذنه، فلا يجوز إلا لحاجة من عليه له الحق وهو الجار،كما أنه لا يوضع مع تضرره لأًن الضرر لا يزال بالضرر.
- فهم أبو هريرة -رضي اللَه عنه- أن الجار متحتم عليه بَذْلُ ذلك لجاره، ولذلك فإنه استنكر عليهم إعراضهم عن هذه السنة، لكنه من باب التأكيد على فعلها وعدم تركها.
- الشارع الحكيم عظَّم حق الجار وحثَّ على الإحسان إليه، في جميع صور البر والإحسان وتمكينه من المنافع التي لا ضرر فيها.